حوثی حملوں سے رسد متاثر ہونے کے خدشات، تیل کی قیمت پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.42 ڈالر یعنی 2.2 فیصد اضافے کے بعد 111.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی
سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد توانائی کی رسد میں مزید تعطل کے خدشات کے باعث جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد بڑھ کر پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اہم برآمدی خطے سے توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔
صبح 10 بج کر 45 منٹ (امریکی مشرقی وقت) پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.42 ڈالر، یعنی 2.2 فیصد اضافے کے بعد 111.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.14 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد بڑھ کر 98.29 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
اس اضافے کے نتیجے میں برینٹ کی قیمت ایک ہفتے کے دوران تیسری بار تکنیکی اعتبار سے حد سے زیادہ خریداری کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ اس کے 18 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہونے کا امکان ہے۔
رائٹرز کے مطابق، دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد سعودی آرامکو نے خلیج فارس میں بحرین کے قریب واقع شہر الظهران میں اپنے ہیڈکوارٹرز سے عملے کو انخلا کی ہدایت دی ہے۔
حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سے یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ حوثی بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، جو بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
پی وی ایم آئل کے تجزیہ کار تاماس ورگا نے کہا ہے کہ ’’مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات کے تنازع سے پہلے کی سطح سے بڑھ جانے کی اطلاعات کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب اور اس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات کہیں زیادہ ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکا میں وسط مدتی انتخابات تک کشیدگی میں کمی کی توقع نہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنی چاہئیں۔‘‘
مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔ کیلپر کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے سے قبل کے 12 ماہ کے دوران خطے سے خام تیل کی اوسط برآمدات تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔
امریکا میں تیل صاف کرنے والی کمپنی ویلیرو انرجی نے تیسری سہ ماہی میں اب تک کا سب سے زیادہ سہ ماہی منافع ریکارڈ کیا ہے، جو وال اسٹریٹ کی توقعات سے بھی زیادہ رہا۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث رسد میں تعطل نے سہ ماہی کے دوران تیل صاف کرنے کے منافع کے مارجن میں نمایاں اضافہ کیا۔
دنیا بھر میں
روس نے رات کے دوران بیلسٹک میزائلوں سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر شدید حملے کیے، جبکہ یوکرین نے ماسکو کی جانب سیکڑوں ڈرون بھیجے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی تازہ ترین کوششوں کے باوجود دونوں فریقوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
روس نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ یوکرین کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل صدر ولادیمیر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کرکے بات چیت کی تھی۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مذاکرات نومبر کے اوائل میں ہوں گے۔ فروری کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے مذاکرات ہوں گے۔
امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق، روس 2025 میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔ یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد روسی توانائی کو عالمی منڈیوں سے دور رکھنے کے لیے عائد پابندیوں نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کے نتیجے میں روس کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔
روس کے اعلیٰ سیاسی اور توانائی حکام نے جمعرات کے روز یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ روسی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کے منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے گیس ذخائر کی کم سطح نے یورپ کو غیر یقینی اور نازک صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔
دریں اثنا، یورپی پارلیمان نے تیل اور گیس کی درآمدات سے متعلق یورپی یونین کے میتھین اخراج کے قواعد پر عمل درآمد میں تین سال کی تاخیر کی منظوری دے دی ہے۔ فرانس اور امریکا سمیت مختلف حکومتوں نے ان قواعد میں تاخیر کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
نیشنل آئل کارپوریشن کے سربراہ نے جمعرات کے روز رائٹرز کو یہ بتایا ہے کہ لیبیا میں حمادہ اور طاہرہ کے تیل کے ذخائر سے زاویہ بندرگاہ تک جانے والی پائپ لائن کا والو بند کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں تیل کے ذخائر سے پیداوار کم ہوگئی ہے۔


Comments