BR100 Decreased By (-0.19%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Increased By (0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.18%)
BAFL 55.65 Decreased By ▼ -0.23 (-0.41%)
BIPL 24.49 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 28.42 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
CNERGY 12.50 Decreased By ▼ -0.38 (-2.95%)
DFML 15.89 Increased By ▲ 0.11 (0.7%)
DGKC 179.65 Increased By ▲ 0.62 (0.35%)
FABL 91.11 Decreased By ▼ -0.06 (-0.07%)
FCCL 51.54 Increased By ▲ 0.24 (0.47%)
FFL 14.01 Decreased By ▼ -0.05 (-0.36%)
GGL 19.53 Increased By ▲ 0.04 (0.21%)
HBL 290.50 Increased By ▲ 0.73 (0.25%)
HUBC 192.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.07%)
HUMNL 8.69 Decreased By ▼ -0.46 (-5.03%)
KEL 5.80 Decreased By ▼ -0.21 (-3.49%)
LOTCHEM 24.65 Decreased By ▼ -0.30 (-1.2%)
MLCF 89.32 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
OGDC 299.79 Increased By ▲ 0.32 (0.11%)
PAEL 33.56 Decreased By ▼ -0.06 (-0.18%)
PIBTL 13.37 Decreased By ▼ -0.11 (-0.82%)
PIOC 231.89 Increased By ▲ 1.76 (0.76%)
PPL 214.85 Decreased By ▼ -4.00 (-1.83%)
PRL 104.15 Decreased By ▼ -4.66 (-4.28%)
SNGP 91.68 Increased By ▲ 1.96 (2.18%)
SSGC 23.20 Increased By ▲ 0.43 (1.89%)
TELE 7.03 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
TPLP 11.96 Increased By ▲ 0.43 (3.73%)
TRG 57.26 Decreased By ▼ -0.36 (-0.62%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
کاروبار اور معیشت

گیس سیکٹر کی تنظیم نو اور ڈی ریگولیشن کے منصوبے پر غور

  • مالی سال 2025-26 کے دوران گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں 344 ارب روپے کا اضافہ ہوا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے، کراس سبسڈیز اور نظام میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے، گیس کمپنیوں کی مالی پائیداری بہتر بنانے اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مرحلہ وار تنظیم نو اور ڈی ریگولیشن کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

یہ بات پیر کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آئی، جس میں گیس سیکٹر کی تنظیم نو اور ڈی ریگولیشن کے مجوزہ لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مالی استحکام، آپریشنل کارکردگی، صارفین کے مفادات اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت پر توجہ دی گئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر 3.63 کھرب روپے ہوگیا، جس میں 1.848 کھرب روپے اصل واجبات جبکہ 1.783 کھرب روپے تاخیر سے ادائیگیوں کے سرچارجز شامل ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے دوران گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں 344 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ قرضہ 30 جون 2025 کو 3.288 کھرب روپے تھا، جو 30 جون 2026 تک بڑھ کر 3.631 کھرب روپے ہوگیا۔ اس عرصے میں اصل واجبات 17 ارب روپے بڑھ کر 1.848 کھرب روپے، جبکہ تاخیر سے ادائیگیوں کے سرچارجز 327 ارب روپے اضافے سے 1.783 کھرب روپے ہوگئے۔

اصل واجبات میں 1.448 کھرب روپے ٹیرف فرق، بجلی کمپنیوں سے 131 ارب روپے کے قابل وصول واجبات، سیلز اور انکم ٹیکس کی مد میں 210 ارب روپے اور قانونی مقدمات سے متعلق 59 ارب روپے شامل ہیں۔

اجلاس میں گردشی قرضے، کراس سبسڈیز، گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات اور طلب و رسد میں عدم توازن سمیت اہم مسائل پر غور کیا گیا۔ شرکا نے اتفاق کیا کہ پرانے مالی واجبات کا پائیدار حل اور کراس سبسڈیز کے لیے واضح حکمت عملی ضروری ہے تاکہ نئی تشکیل پانے والی کمپنیوں کی مالی حیثیت متاثر نہ ہو اور صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت توانائی کا تحفظ بہتر بنانے، نجی سرمایہ کاری بڑھانے، مالیاتی اور حکومتی ضمانتوں سے متعلق خطرات کم کرنے، کاروبار سے کاروبار کی بنیاد پر لین دین بڑھانے، گیس کی قیمتوں کو زیادہ مستحکم بنانے اور برآمد کنندگان کو مسابقتی نرخوں پر گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ نظام میں نقصانات کم کرنے کے لیے کارکردگی کے معیارات اور مراعات بھی متعارف کرانے پر غور کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان قابل عمل اصلاحاتی حکمت عملی پر اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ مجوزہ فریم ورک میں ترکیہ اور برطانیہ کے گیس سیکٹر اصلاحات کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے حالات اور صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجوزہ فریم ورک وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد تکنیکی کام اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے اصلاحات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ حکومت نے گیس سیکٹر میں مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے مالی استحکام، بہتر کارکردگی اور مسابقتی منڈی کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف