آئی ایم ایف پروگرام : چوتھا جائزہ (حصہ دوم)
- آئی ایم ایف اسٹاف مشن نے بلند خطرات کے ماحول میں اہم معاملات اٹھائے، پاکستان میں معاشی نمو برقرار رکھنے اور غربت میں اضافے روکنے کیلئے ہمدردی کی امید
مضمون کا پہلا حصہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف پروگرام کے چوتھے جائزے کے لیے اسٹاف مشن کی پاکستان آمد سے قبل شائع ہوا تھا۔ یہ دوسرا حصہ اسٹااف مشن کی اسلام آباد میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں کے بعد تحریر کیا گیا ہے۔
پہلے مضمون میں شامل موضوعات کا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے تناظر میں مالی سال 27-2026 کے مجموعی میکرواکنامک (کلان معاشیات) اہداف سے تھا۔
اس میں پٹرولیم لیوی میں کمی کا موقف پیش کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں مالی سال 27-2026 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مجوزہ غیر معمولی لین دین کو نماياں کیا گیا اور قومی عوامی مالیات (پبلک فنانس) پر ان کے اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ صوبائی ٹیکس آمدنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر زرعی انکم ٹیکس کے قیام و فروغ میں ناکامی کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ مالی سال 27-2026 کے اختتام تک افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح بتدریج کم ہو کر سنگل ڈیجٹ (ایک ہندسے) پر آ جائے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا موقف بھی یہی ہے۔ فی الوقت اس حوالے سے ملے جلے رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تازہ ترین اندازے کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے زائد رہی ہے، جو ایک ماہ قبل 9 فیصد تھی۔ اس کے برعکس کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) نے مہنگائی کی شرح میں 11 فیصد سے کمی کے بعد 10 فیصد پر آنے کی نشاندہی کی ہے۔
اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت مالی سال 27-2026 کی آئندہ تین سہ ماہیوں کے لیے افراطِ زر کی شرح کا باریک بینی سے تخمینہ لگائیں۔
آئندہ اہم معاملہ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کے ٹیکس محاصل کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ بظاہر ایف بی آر نے 3,053 ارب روپے کے سہ ماہی ہدف کو 30 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ عبور کر لیا ہے اور آئی ایم ایف کو اس کامیابی سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔
تاہم اس سہ ماہی کے دوران ٹیکس آمدنی میں حاصل ہونے والی نمو کی شرح محض 7 فیصد رہی ہے۔ جبکہ سالانہ ہدف کے نمو کی شرح 17.3 فیصد طے کی گئی ہے، جس کے تحت مالی سال 27-2026 کے اختتام تک مجموعی محاصل کو 15,264 ارب روپے تک پہنچانا ہے، جبکہ مالی سال 25-2026 میں یہ سطح 13,010 ارب روپے تھی۔
واضح طور پر ایف بی آر کی جانب سے پہلی سہ ماہی کے لیے ٹیکس محاصل کا ہدف حقیقت سے نمایاں طور پر کم مقرر کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف اسٹااف مشن مارکیٹ کی بنیاد پر شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کی پالیسی اختیار کرنے کے اہم مسئلے پر زور دیتا رہا ہے۔ اسے نہ صرف برآمد کنندگان کی مسابقت کو برقرار رکھنے بلکہ تیل اور ایندھن کی بلند درآمدی قیمتوں کے باعث تجارتی خسارے کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں انتہائی معمولی تبدیلیوں کی پالیسی کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس وقت ڈالر کی فروخت کی قیمت 279.13 روپے پر قائم ہے۔اسٹیٹ بینک کے اپنے تخمینے کے مطابق روپے کا حقیقی مؤثر ایکسچینج ریٹ (ریئر) انڈیکس 108 کے قریب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روپے کی قدر میں تقریباً 8 فیصد کا مصنوعی اضافہ (اوور ویلیو) موجود ہے۔
مالی سال 25-2026 اور 27-2026 کے لیے روپے کی شرحِ مبادلہ کے بارے میں آئی ایم ایف کے تخمینہ جات مئی 2026 کی ’تھرڈ ریویو رپورٹ‘ سے لیے گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے پیش کردہ اندازے کے مطابق مالی سال 25-2026 کے اختتام پر ایک امریکی ڈالر کی قیمت 284.20 روپے اور مالی سال 27-2026 کے اختتام تک 311.57 روپے ہونی چاہیے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق روپیہ اس وقت نمایاں طور پر اوور ویلیوڈ ہے اور جون 2027 کے اختتام تک اس کی قدر میں 11.6 فیصد کمی ہونا ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل و ایندھن کی مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافے سے جڑے خطرات کا مطلب یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال نازک ہے۔
پہلی سہ ماہی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں دیکھا جانے والا غیر معمولی اضافہ آئندہ برقرار رہنے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ شرحِ مبادلہ کی پالیسی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا موقف درست ہے اور اسٹیٹ بینک کو ایکسچینج ریٹ سے متعلق مارکیٹ پر مبنی پالیسی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔
اب ہم ایک اور اہم معاملے کی طرف آتے ہیں۔ اس کا تعلق پیٹرول کی قیمت میں موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو دی جانے والی موجودہ سبسڈی سے ہے۔ جیسا کہ پچھلے مضمون میں بھی اجاگر کیا گیا تھا، اس سبسڈی کا فائدہ سب سے کم آمدنی والے طبقے کو نہیں پہنچتا کیونکہ ان کے پاس موٹر سائیکلیں یا چھوٹی گاڑیاں موجود ہی نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف کی جانب سے یہ تجویز کہ یہ سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے مستحق اور غریب گھرانوں تک پہنچائی جائے، ایک مناسب اور درست سفارش ہے۔ اس وقت پاکستان بھر میں 90 لاکھ مستحق خاندان اس پروگرام سے منسلک ہیں۔
بے نظیر کفالت پروگرام کے تحت فی خاندان کو سہ ماہی بنیادوں پر 13,500 سے 14,500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
موٹر سائیکل مالکان کو مالی معاونت 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول تک دی جا رہی ہے۔ بی آئی ایس پی کے تحت نقد امداد میں سہ ماہی 4,500 روپے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے سہ ماہی مالی منتقلی بڑھ کر 18,000 سے 19,000 روپے ہو جائے گی۔ اس اضافی سبسڈی کی سہ ماہی لاگت 40.5 ارب روپے ہوگی۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں ہنگامی اخراجات کے لیے 430 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اضافی نقد امداد کی مالی اعانت اسی رقم سے کی جانی چاہیے۔
یہ بات بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ غریب گھرانوں تک بی آئی ایس پی کی رسائی کسی حد تک محدود ہے۔ اس وقت ورلڈ بینک اور ایس پی ڈی سی آئی کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 43 فیصد ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ 17 ملین سے زائد گھرانے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لہٰذا پٹرولیم لیوی میں کمی کی بھی ضرورت ہے، تاکہ تمام گھرانوں کو یکساں طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔
حکمرانی سے متعلق بھی متعدد اقدامات ہیں جن پر پاکستان کی حکومت نے آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کے بعد عمل درآمد پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے نیب آرڈیننس میں مناسب ترامیم شامل ہیں۔ دوسرے سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کی جائے، تاکہ اعلیٰ سطح کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کے گوشوارے ڈیجیٹل طور پر جمع کرائے جائیں اور عوام کے لیے قابل رسائی ہوں۔ تیسرے، شناخت شدہ محکموں میں بدعنوانی کے خطرات کم کرنے کے لیے ایک ایکشن پلان شائع کیا جائے۔
چوتھے ایس ڈبلیو ایف ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے مناسب گورننس میکنزم اپنایا جائے۔ یہ اقدامات بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے مناسب ہیں اور انہیں اولین ترجیح کی بنیاد پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
آئی ایم ایف اسٹاف مشن نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بلند خطرات کے ماحول میں مناسب نوعیت کے معاملات اٹھا کر کام کا آغاز کیا ہے۔ امید ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح نمو کو حتی الامکان برقرار رکھنے اور ملک میں پہلے ہی بلند غربت کی شرح میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے مناسب سمجھ بوجھ اور ہمدردی کا مظاہرہ کرے گا۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026


Comments