ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ کے سربراہ کی علاقائی، عالمی امن و سلامتی پر بات چیت
- انتونیو گوتریس پاکستان کی سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے ملاقات کی، جس میں فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان، انسداد دہشت گردی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت علاقائی و عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے انتونیو گوتریس کو جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اسلام آباد کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری بھی شامل ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انتونیوگوتیرس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی طویل عرصے سے جاری خدمات اور مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اس کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتیوگوتیرس منگل کو اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ ان کا دورہ 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ دورے کے آغاز پر اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں ان کا استقبال کیا۔
انتونیو گوتیرس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ اقوام متحدہ کے بھارت و پاکستان کے لیے فوجی مبصر گروپ (یواین ایم او جی آئی پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کریں گے اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں بریفنگ میں شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق انتونیو گوتیرس کی دیگر مصروفیات میں کثیرالجہتی نظام اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں، جبکہ آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ابتدائی انتباہی نظام میں پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا جائے گا۔


Comments