خلیجی جنگ سے معاشی سرگرمیاں سست اور محصولات میں نقصان ہوا، پاکستان کی آئی ایم ایف کو بریفنگ
- تنازع کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 144 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا
حکومت نے پیر کو پاکستان کے دورے پر موجود عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باعث پہلی سہ ماہی میں محصولات کا نقصان ہوا اور معاشی سرگرمیاں سست پڑیں۔ حکومت نے یہ بھی آگاہ کیا کہ لازمی اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے ظاہر کرنا ہوں گے۔
اعلیٰ حکومتی حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات میں محصولات کی کارکردگی، خلیجی تنازع کے معاشی اثرات اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سمیت ساختی اصلاحات پر پیش رفت زیر بحث آئی۔
محصولات کے معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف مشن کو خلیجی تنازع کے ٹیکس وصولی پر اثرات سے آگاہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ 30 ستمبر 2026 تک پہلی سہ ماہی کے لیے طے شدہ 3.053 ٹریلین روپے کا محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ستمبر میں 1.343 ٹریلین روپے کے ماہانہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 1.330 ٹریلین روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ ستمبر کی متوقع وصولی سے ایف بی آر جولائی تا ستمبر مجموعی محصولات کا 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرلے گا۔
ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ خلیجی تنازع کے بعد آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث ایندھن کی قیمتیں بڑھیں اور پاکستان میں معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جس سے ٹیکس وصولی متاثر ہوئی۔ بالخصوص درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی متاثر ہوئی۔
ایف بی آر کے تخمینے کے مطابق جاری تنازع کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 144 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم بیرونی دھچکے کے باوجود ٹیکس حکام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سہ ماہی ہدف حاصل کرنے کے لیے پُراعتماد ہیں۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے متعلق بھی بریفنگ دی۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو لازمی نظام کے تحت اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ اثاثہ جات ظاہر کرنا اختیاری نہیں ہوگا اور اس نظام کے دائرہ کار میں آنے والے وفاقی ملازمین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی۔
حکومت نے متعلقہ ملازمین کے لیے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا عمل 30 اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ جات کے گوشوارے دسمبر 2026 یا جنوری 2027 تک شائع کیے جانے کی توقع ہے۔
اثاثہ جات ظاہر کرنے کا اقدام سرکاری شعبے میں شفافیت اور احتساب مضبوط بنانے اور وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی بہتر بنانے کی حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستان کی مالی اور محصولات کی کارکردگی، طے شدہ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد اور حالیہ بیرونی پیش رفت کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مشن مذاکرات کے دوران طے شدہ پروگرام اہداف اور محصولات میں اضافے کے اقدامات پر حکومت کی پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments