ٹرمپ کی جانب سے امن تجویز مسترد کرنے کے بعد ایران کا سفارتی حل پر زور
- ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا، عباس عراقچی
ایران نے اتوار کو ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔ ان کے مطابق صرف مذاکرات کے ذریعے اس تعطل کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن تجویز پیش کی تھی، جو قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی۔ تاہم ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ انہوں نے ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے کیونکہ اسے جنگ میں شدید نقصان ہو رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ثالثوں نے ابھی تک امریکا کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کی باضابطہ اطلاع ایران کو نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ایران ثالثوں کی جانب سے حتمی امریکی مؤقف کا انتظار کر رہا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکا نے ایران پر اقتصادی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے تاکہ تہران پر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ تنازع کے باعث اس اہم بحری راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق ایرانی تجویز پر اتفاق کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روز کی مدت شروع ہوگی اور خطے میں لڑائی روک دی جائے گی، جس کے بعد فریقین باہمی اتفاق سے دیگر معاملات پر وسیع مذاکرات شروع کر سکتے ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ دباؤ یا دھمکی قبول نہیں کرے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن دباؤ، دھمکیوں اور حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
دوسری جانب جنگ کے دوران ایران اور اس کے اتحادیوں نے خطے میں جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اتحادیوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ یمن میں اس کے حوثی اتحادیوں نے سعودی مفادات کو ہدف بنایا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کے مطابق ہفتے کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز مار گرائے گئے۔


Comments