BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

ملکی منصوبہ بندی کمیشن کی ناگزیر اہمیت

  • پاکستان کو مزید منصوبوں کی نہیں، بلکہ تزویراتی تسلسل، مؤثر عمل درآمد اور ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو اگلے بحران سے بچنے کے بجائے ایسا معاشی نظام تشکیل دے جو اگلے بحران کو جنم ہی نہ لینے دے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ایسا ترقیاتی ادارہ موجود تھا جو اگلے بجٹ، اگلے سیاسی دور اور اگلے معاشی بحران سے آگے کی سوچ رکھتا تھا۔ یہی ادارہ ملک کی تزویراتی معاشی و سماجی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے فکری قوت کا مرکز تھا۔

منصوبہ بندی کمیشن کا قیام ملک کو معاشی ترقی کی تزویراتی سمت فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اسی نے پانچ سالہ منصوبے مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جن کی بدولت 1960 کی دہائی میں پاکستان ترقی کے ایک نمونے کے طور پر ابھرا۔ تاہم آج اس کا کردار بتدریج ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال اور محدود سرکاری وسائل کی تقسیم تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

ایک زمانے میں پاکستان کا منصوبہ بندی کمیشن ملک کے بااثر ترین معاشی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ وزارتوں کو ملکی ترجیحات اور ضروریات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ وزارت خزانہ کمیشن کی فراہم کردہ تزویراتی رہنما اصولوں کی بنیاد پر کام کرتی اور ملکی بجٹ مرتب کیے جاتے تھے، تاکہ عوام کے حوالے سے ریاست کی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھا جا سکے۔

آج منصوبہ بندی کمیشن حکومت سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شمولیت کی درخواست کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ اہم چیز کھو دی ہے: فوری بحران سے آگے سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت۔ پاکستان کو ایک اور منصوبے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے ادارے کی بحالی کی ضرورت ہے جو مستقبل کے بارے میں تزویراتی انداز میں سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

پاکستان کے ابتدائی منصوبہ بندی کے تجربے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی اور ایشیا بھر میں ترقی کے مباحث کا حصہ بنا، جن میں جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی شامل تھے۔

اس دور کی اہمیت محض پانچ سالہ منصوبوں کی تیاری تک محدود نہیں تھی۔ اس کے پس پشت یہ تصور کارفرما تھا کہ ایک ترقی پذیر ملک منظم منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے معاشی مستقبل کو دانستہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔

یہ فلسفہ بتدریج معدوم ہوتا گیا۔

منصوبہ بندی کمیشن کا زوال نہ تو اچانک آیا اور نہ ہی اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی مداخلت، معاشی پالیسی سازی میں انتشار اور قلیل مدتی بحرانوں سے نمٹنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مجموعی نتیجہ تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ پانچ سالہ منصوبے قومی تبدیلی کے مؤثر آلات کے بجائے محض دستاویزات بنتے گئے۔ حکومتیں اپنی ترجیحات تبدیل کرتی رہیں، ترقیاتی منصوبے سیاسی مفادات سے متاثر ہوتے رہے، عمل درآمد اکثر منصوبہ بندی سے مختلف سمت میں ہوتا رہا اور کمیشن کا تعلق بتدریج سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کی منظوری، نگرانی اور وسائل کی تقسیم سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔

اصل مسئلہ منصوبہ بندی کو پالیسی سازی اور بجٹ سازی سے الگ کر دینا تھا۔

وزارت خزانہ نے منصوبہ بندی کمیشن کی فکری صلاحیت کا بڑا حصہ اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش کے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ترجیحات تزویراتی انتظام سے بحران کے فوری انتظام کی طرف منتقل ہو گئیں۔ وزارت خزانہ مالی خسارے، قرضوں، ٹیکسوں، زرمبادلہ اور فوری ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ میں الجھ گئی۔ اسٹیٹ بینک نے زرّی استحکام پر توجہ مرکوز رکھی، انفرادی وزارتیں اپنے اپنے شعبہ جاتی ایجنڈے آگے بڑھاتی رہیں، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن ایک جامع معاشی حکمت عملی فراہم کرنے کے بجائے بتدریج ایک منتشر نظام کا حصہ بنتا گیا۔

اس کے نتائج پوری معیشت میں نمایاں ہیں۔

توانائی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پاکستان نے بارہا بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن ایندھن کی سلامتی، ترسیل، تقسیم، استطاعتِ خرید اور طلب میں اضافے کو ایک مربوط طویل مدتی حکمت عملی میں مناسب طور پر یکجا نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً بعض اوقات اضافی پیداواری صلاحیت موجود رہی، جبکہ دوسری جانب مہنگے کیپیسٹی چارجز، گردشی قرضے، غیر قابلِ اعتماد فراہمی اور صنعتوں و گھریلو صارفین کے لیے مہنگی بجلی کا مسئلہ برقرار رہا۔ ایک مضبوط تزویراتی منصوبہ بندی کا ادارہ توانائی کے تحفظ کو صنعتی پالیسی، برآمدات اور مالی پائیداری کے ساتھ مربوط کر سکتا تھا، بجائے اس کے کہ ہر بحران کو الگ الگ مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا۔

برآمدات بھی اس کی ایک اور مثال ہیں۔ پاکستان نے بارہا برآمدی اہداف اور مراعاتی پیکیجز کا اعلان کیا، لیکن کم قدر والی اجناس اور روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر اعلیٰ قدر کی حامل مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، خدمات اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی سپلائی چینز کی طرف منتقلی کے لیے طویل مدتی حکمت عملی برقرار نہیں رکھ سکا۔ جن ممالک نے کامیابی سے اپنی معیشتیں تبدیل کیں، انہوں نے ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے، مالیات، ٹیکنالوجی اور صنعتی پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا۔ پاکستان نے اکثر پچھلی حکمت عملی کے ثمر آور ہونے سے پہلے ہی سمت تبدیل کر لی۔

انسانی سرمائے کے معاملے میں بھی یہی کمزوری نمایاں ہے۔ تعلیم، فنی تربیت، صحت اور افرادی قوت کی ترقی کو عموماً معاشرتی شعبے کے اخراجات سمجھا گیا، جبکہ انہیں معاشی حکمت عملی کے بنیادی اجزا کے طور پر دیکھنے کی ضرورت تھی۔ حالانکہ مستقبل میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کا انحصار آبادی کے حجم سے کم اور اس کے لوگوں کی پیداواری صلاحیت اور مہارتوں پر زیادہ ہوگا۔

تزویراتی منصوبہ بندی کا مقصد ہی یہی ہے۔

اس کے بجائے پاکستان بتدریج منصوبہ بندی سے بحرانوں کی فوری روک تھام کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ ساختی مسائل کو اس وقت تک بڑھنے دیا جاتا ہے جب تک وہ بحران نہ بن جائیں، جس کے بعد حکومتیں اکثر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قلیل مدتی حل تلاش کرتی ہیں۔

یہ صورت حال ایک اہم ادارہ جاتی سوال اٹھاتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی قیادت بنیادی طور پر وزارت خزانہ ہی کرتی ہے، جو قابلِ فہم ہے کیونکہ ایسے پروگراموں میں مالیاتی، زرّی اور ادائیگیوں کے توازن سے متعلق مسائل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف کی شرائط اب ان شعبوں سے کہیں آگے بڑھ کر توانائی، ٹیکسوں، سرکاری سرمایہ کاری، سرکاری ملکیتی اداروں، سبسڈیز اور ساختی اصلاحات تک پھیل چکی ہیں۔

لہٰذا منصوبہ بندی کمیشن کا اس عمل میں ایک جائز کردار ہے۔

منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے وزیراعظم سے آئی ایم ایف مذاکرات میں شمولیت کی درخواست کو محض وزارت خزانہ کے ساتھ ادارہ جاتی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کے معاشی نظم و نسق میں ایک بڑی خامی کو اجاگر کرتی ہے: جب فوری مالی استحکام بحث پر غالب آ جائے تو ملک کے درمیانی اور طویل مدتی ترقیاتی مفادات کی نمائندگی کون کرے گا؟

اس کا جواب منصوبہ بندی کمیشن ہونا چاہیے—وزارت خزانہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ساتھ مل کر۔

وزارت خزانہ کو مالیاتی اور مالی معاملات سے متعلق مذاکرات کی قیادت جاری رکھنی چاہیے، تاہم منصوبہ بندی کمیشن کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے جانے والے وعدے قومی ترقیاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان مستقل طور پر ایک آئی ایم ایف پروگرام سے دوسرے پروگرام تک اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں مذاکرات نہیں کر سکتا۔

اس کا حل یہ نہیں کہ پرانے منصوبہ بندی کمیشن کو عین اسی شکل میں بحال کر دیا جائے۔ اسے بنیادی طور پر ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

اول، اسے حکومت کا طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا مرکزی ادارہ بننا چاہیے، جو پانچ سالہ عملی منصوبوں اور سالانہ قابلِ پیمائش اہداف کی مدد سے 10 سے 15 سال پر محیط ایک متحرک قومی فریم ورک تیار کرے۔

دوم، منصوبہ بندی کو نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہر بڑی قومی ترجیح—برآمدات، پیداواری صلاحیت، توانائی کا تحفظ، زراعت، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، پانی، رسد و نقل و حمل، تعلیم، صحت اور ہنرمندی—کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، مالی ضروریات، مقررہ مدت اور واضح طور پر متعین ادارہ جاتی ذمہ داری موجود ہونی چاہیے۔

سوم، کمیشن کو اپنی فکری صلاحیت دوبارہ حاصل کرنا ہوگی۔ ممتاز ماہرینِ معاشیات، انجینئرز، شماریات دانوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، سماجی شعبے کے ماہرین اور نجی شعبے کے پیشہ ور افراد کو مسابقتی بنیادوں پر بھرتی کیا جانا چاہیے۔ ایک تزویراتی ادارہ روایتی بیوروکریٹک سوچ کے زیرِ اثر نہیں رہ سکتا۔

چہارم، منصوبہ بندی کو براہِ راست بجٹ سے منسلک کرنا ہوگا۔ اگر سالانہ بجٹ میں وسائل قلیل مدتی سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت مختص کیے جائیں تو قومی ترجیحات کا تعین کرنے کی کوئی خاص افادیت نہیں رہتی۔

آخر میں، کمیشن کے پاس یہ جانچنے کا اختیار اور صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ آیا سرکاری سرمایہ کاری حقیقتاً معاشی اور سماجی فوائد فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔

پاکستان کو منصوبوں کی کمی کا سامنا نہیں۔ مسئلہ تزویراتی تسلسل، عمل درآمد میں نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے فقدان کا ہے۔

منصوبہ بندی کمیشن ایک زمانے میں اس تصور کی علامت تھا کہ پاکستان محض حالات پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اپنے معاشی مستقبل کی سمت خود متعین کر سکتا ہے۔ یہ کردار بتدریج اس سے چھن گیا۔ اسے بحال کرنے کے لیے سیاسی سرپرستی، پیشہ ورانہ خودمختاری اور قلیل مدتی مصلحت کو طویل مدتی قومی مفاد کے تابع کرنے کے عزم کی ضرورت ہوگی۔

کمیشن کو ایک بار پھر وہ ادارہ بننا چاہیے جہاں پاکستان صرف یہ طے نہ کرے کہ اگلے بحران سے کیسے بچنا ہے، بلکہ یہ بھی طے کرے کہ ایسی معیشت کیسے تعمیر کرنی ہے جو اگلے بحران کو جنم لینے ہی سے روکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف