وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس بریفنگ کی جس کے دوران انہوں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش کے باعث روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے اس نوعیت کی رکاوٹوں کو خود اپنے لیے پیدا کی گئی تکلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت استحکام حاصل کرچکی ہے اور اب ترقی کی جانب گامزن ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں دانشمندانہ نہیں ہیں۔
تاہم وفاقی وزیر نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومتوں، بشمول موجودہ حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے تدارکی اقدامات کے نتیجے میں معیشت کو ہونے والے نقصانات کا کوئی تخمینہ پیش نہیں کیا۔ ان اقدامات میں نجی شعبے کے کنٹینرز اور ٹرکوں کو سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حمل یا سڑکیں بند کرنے کے لیے اپنے قبضے میں لینا بھی شامل ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
مزید برآں حکومتیں اکثر سڑکیں بند کردیتی ہیں اور حساس علاقوں میں صرف ایک راستے سے داخلے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے جس سے ایندھن کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور سرکاری امور بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرکاری دفاتر کی جانب جانے والی سڑکیں اکثر سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
چونکہ یہ پیشگی اقدامات اصل ہڑتالوں سے چار سے سات روز قبل ہی شروع کردیئے جاتے ہیں، اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ وفاقی وزیر اپنے عملے کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے ہونے والے نقصانات کا بھی تخمینہ لگانے کی ہدایت کریں گے۔
میکرو اکنامک اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کی تجویز کردہ پالیسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں معیشت میں استحکام حاصل ہوا ہے۔
11 ستمبر تک زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال بہتر ہوکر 21 ارب 389 ملین ڈالر ہوگئی ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھاد سمیت دیگر درآمدی اشیا، بالخصوص خلیجی ممالک سے ہونے والی درآمدات، کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر یہ ذخائر زیادہ سے زیادہ ڈھائی سے تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جبکہ ڈونر اداروں کی جانب سے زرمبادلہ ذخائر کے لیے کم از کم مطلوبہ سطح تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہے۔
نتیجتاً تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جو جولائی تا اگست 2025 کے دوران 5 ارب 964 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2026 کی اسی مدت میں 6 ارب 752 ملین ڈالر ہوگیا، یعنی اس میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے جاری تنازع کے باعث مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کے بجائے وہیں رہنے کو ترجیح دی ہے۔
حکومت اپنی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر بتدریج زیادہ انحصار کررہی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں دو مرحلوں میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا اور امریکا سے 10 ارب ڈالر قرض لینے کی درخواست ہے جو تاحال زیرِ التوا ہے۔ مزید برآں معیشت کو متاثر کرنے والے بیرونی عوامل کے باعث حکومتی موجودہ اخراجات میں کوئی نمایاں کمی بھی دکھائی نہیں دیتی جبکہ رواں سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے مجموعی بجٹ کا بلند ترین 93 فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا۔
وزیر خزانہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان اشاریوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں جو براہِ راست عام عوام کے معیارِ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر 10.64 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سبزی و غذائی اشیا، جن میں لہسن، انڈے اور مٹن شامل ہیں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ڈیزل، پیٹرول، ایل پی جی اور لکڑی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں جبکہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ملک کے بالائی علاقوں میں لکڑی کی کھپت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ڈیزل جو گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے دی جانے والی 75 ارب روپے کی سبسڈی کے لیے اہل نہیں ہے، نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، جس سے وہ افراد سفر کرتے ہیں جن کے پاس اپنی سواری نہیں، بلکہ کھیتوں سے منڈیوں تک جلد خراب ہونے والی اشیا کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسرا تشویش ناک اشاریہ یہ ہے کہ آبادی کا 44.7 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جہاں یومیہ آمدنی 4.20 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کی حد یومیہ 3 ڈالر ہے۔ دوسری جانب، قومی خطِ غربت 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے، یعنی ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اس دائرے میں آتی ہے۔
عوام کو درپیش وسیع پیمانے کی مشکلات موجودہ سال کا بجٹ تشکیل دیتے وقت وزیر خزانہ کے لیے انتہائی سنجیدہ تشویش کا باعث ہونی چاہئیں تھیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے امیر اور بااثر طبقے کے لیے مالی مراعات میں اضافہ کیا جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے۔
مزید برآں نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بالواسطہ ٹیکسوں سے آئی جن میں چینی، سیمنٹ اور کھاد پر فیکٹری گیٹ پر عائد سیلز ٹیکس شامل ہے۔ یہ تمام اخراجات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کردیئے گئے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
یہ درست ہے کہ وفاقی وزیر غالباً جون میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد اضافے اور ماہانہ بنیاد پر 9.51 فیصد اضافے کا حوالہ دے رہے تھے، تاہم بڑے صنعتی شعبے اس اعداد و شمار کو چیلنج کررہے ہیں۔
مثال کے طور پر ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں 150 یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ اس دعوے کو آئی ایم ایف کی ہدایات کے تحت حکومت کی جانب سے سخت مالیاتی اور زری پالیسیوں کے مسلسل نفاذ سے تقویت ملتی ہے جن کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اور مقامی مصنوعات بیرونی اور اندرونِ ملک دونوں منڈیوں میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحد پار اسمگلنگ زیادہ منافع بخش ہوتی جارہی ہے۔
وزارت خزانہ کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اختراعی اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر پالیسیاں مرتب کرے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ان پالیسیوں کی افادیت پر قائل کرے اور خیرسگالی کے اقدام کے طور پر موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی کمی کرے۔ ایسا کرنے سے مطلوبہ مالی گنجائش پیدا ہوگی جس کے ذریعے فنڈ کو ان پالیسیوں پر عملدرآمد کی حمایت پر آمادہ کیا جاسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments