ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر امریکی حملوں کی درخواست مسترد کردی
- امریکی حکام نے کہا کہ انتظامیہ کا فی الحال حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں ہے
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو مرتبہ فون کرکے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے پر زور دیا، ایکسئوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے درخواست مسترد کردی، جبکہ امریکی حکام نے کہا کہ انتظامیہ کا فی الحال حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔
رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے نے معمول کے کاروباری اوقات کے علاوہ تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
ایکسئوس کے مطابق امریکا یمن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں مبتلا ہے اور براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کی حمایت بڑھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر فوری رابطہ کاری کے لیے جمعرات کو سعودی عرب پہنچے۔
ایکسئوس نے مزید بتایا کہ امریکی فوجی اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکی افواج کی توجہ ایران پر مرکوز رکھنے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ پر ہونی چاہیے جبکہ ایک اور فوجی محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے۔
رائٹرز نے جولائی میں رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے۔
کشیدگی میں اضافہ جولائی کے اوائل میں شروع ہوا، جب حوثیوں نے کہا کہ ان کی افواج نے سعودی جنگی طیاروں کا مقابلہ کیا جو ایک ایرانی شہری طیارے کو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔


Comments