BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستانی شہر موسمیاتی آفات کے مقابلے میں دنیا کے کم لچکدار شہروں میں شامل

  • حیدرآباد موسمیاتی آفات کے مقابلے میں دنیا کا دوسرا کم لچکدار شہر، ملتان تیسرا، لاہور پانچواں، فیصل آباد ساتواں اور کراچی آٹھواں کم لچکدار شہر قرار دیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے کئی شہر موسمیاتی آفات کے مقابلے میں دنیا کے کم لچکدار شہروں میں شمار کیے گئے ہیں، جہاں حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی، 72 بڑے شہروں کے نئے جائزے میں بدترین 10 شہروں میں شامل ہیں۔

یہ رپورٹ جغرافیائی تجزیاتی کمپنی الفا جیو نے تیار کی ہے، جس میں شہروں کو نہ صرف موسمیاتی خطرات سے لاحق خطرے بلکہ ان کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور انہیں برداشت کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر بھی جانچا گیا ہے۔

درجہ بندی کے مطابق حیدرآباد موسمیاتی آفات کے مقابلے میں دنیا کا دوسرا کم لچکدار شہر، ملتان تیسرا، لاہور پانچواں، فیصل آباد ساتواں اور کراچی آٹھواں کم لچکدار شہر قرار دیا گیا۔ بھارت کا احمد آباد ان شہروں کی فہرست میں سرفہرست رہا جنہیں موسمیاتی آفات کے مقابلے میں سب سے کم لچکدار قرار دیا گیا، جس کے بعد حیدرآباد اور ملتان کا نمبر آیا۔

نتائج اس فرق کو اجاگر کرتے ہیں جسے الفا جیو نے بعض شہروں میں موسمیاتی خطرات سے ان کے تعرض اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت کے درمیان خطرناک خلا قرار دیا ہے۔

الفا جیو کے بانی اور چیف ایگزیکٹو پراگ کھنہ کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے کہا کہ لچک کا مطلب خطرے میں سے موافقت کو منہا کرنا ہے۔ ہر کوئی لچک کے بارے میں بات کرتا ہے، لیکن کوئی اسے ناپتا نہیں۔

کمپنی نے شہروں کو موسمیاتی خطرات کی ایک وسیع رینج کے خلاف جانچا، جن میں اندرونِ ملک اور ساحلی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور سمندری طوفانوں کی تیز ہوائیں شامل ہیں۔ اس کے بعد یہ جائزہ لیا گیا کہ شہر ابتدائی انتباہی نظام، طرزِ حکمرانی اور پالیسی اقدامات، سیلاب سے بچاؤ کے بند اور زیادہ گنجائش رکھنے والے نکاسیٔ آب کے بنیادی ڈھانچے جیسے اقدامات کے ذریعے ان خطرات سے کس حد تک مؤثر انداز میں مطابقت پیدا کررہے ہیں۔

جائزے سے معلوم ہوا کہ جنوبی ایشیا کے شہر درجہ بندی کے آخری حصے میں نمایاں رہے، جو اس خطے میں سیلاب اور مون سون سے متعلق خطرات کے زیادہ تعرض کے ساتھ ساتھ نسبتاً کمزور موافقتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے شہر بدترین 10 شہروں میں خاص طور پر نمایاں رہے۔ حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی کے ساتھ بھارت کے احمد آباد اور کولکتہ، بنگلہ دیش کے ڈھاکا اور چٹگاؤں، اور تائیوان کا تائپے بھی آخری 10 شہروں میں شامل تھے۔

دوسری جانب شکاگو کو دنیا کا سب سے زیادہ لچکدار بڑا شہر قرار دیا گیا، جس کے بعد ادیس ابابا، میلبورن، بارسلونا، انقرہ، بیونس آئرس، پیرس، استنبول، بوگوٹا اور نیروبی بالترتیب شامل رہے۔

شکاگو کی پہلی پوزیشن کی وجہ اس کی معتدل آب و ہوا، میٹھے پانی تک رسائی اور سمندری طوفانوں کے نسبتاً کم خطرے کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا۔ مثال کے طور پر، اس کا ڈیپ ٹنل پروجیکٹ سیلاب اور پانی کی آلودگی سے نمٹنے میں مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں موسمیاتی خطرات سے تعرض اور موسمیاتی لچک کے درمیان فرق کو نمایاں کیا گیا ہے۔ کسی شہر کو شدید خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، تاہم مؤثر بنیادی ڈھانچہ اور پیشگی تیاری ان کے نتائج کو نمایاں طور پر کم کرسکتی ہے۔

الفا جیو نے نشاندہی کی کہ شدید موسمی حالات ثانوی نظاموں کی ناکامی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر شدید گرمی یا سردی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے، جبکہ مضبوط بجلی کے گرڈ میں سرمایہ کاری نتیجتاً پیدا ہونے والی بجلی کی بندش کے اثرات کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ نتائج جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بڑھتی ہوئی شدید آفات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ نیپال اور تبت میں حالیہ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات اس وقت انتہائی تباہ کن نتائج کے امکانات کو ظاہر کرتے ہیں جب شدید موسمی حالات کمزور آبادیوں اور محدود موافقتی صلاحیت کے ساتھ ٹکرا جاتے ہیں۔

پراگ کھنہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی میں تیزی کا لازمی مطلب یہ ہے کہ بالائی علاقوں سے کہیں زیادہ پانی کا اخراج ہوگا۔ اس خطے میں قصبے قدرتی طور پر ان وادیوں میں آباد کیے گئے ہیں جہاں سے گزرنا ممکن ہے، لیکن یہی مقامات سب سے نچلے حصے میں بھی ہوتے ہیں — اور پانی قدرتی طور پر کم سے کم مزاحمت کے راستے پر نیچے کی جانب بہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم فطرت کے سامنے لفظی طور پر ایک معمولی سی رکاوٹ ہیں۔

Comments

200 حروف