امریکہ ایران کشیدگی میں عارضی کمی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم
- عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے اکتوبر ڈیلیوری کیلئے فیوچرز 43 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 95.20 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے اکتوبر ڈیلیوری کے لیے فیوچرز 43 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 95.20 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 24 سینٹ یا 0.26 فیصد کمی سے 90.77 ڈالر فی بیرل رہی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملے جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا عسکری تبادلہ قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ جنگ کا 7واں ماہ جاری ہے۔ گزشتہ سیشن کے دوران برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 2 ڈالر فی بیرل تک اضافہ اور 1 ڈالر تک کمی ہوئی۔ دونوں کی سیشن کی بلند ترین سطح 24 جولائی کے بعد سب سے زیادہ رہی۔
آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کے مطابق بدھ کی دوپہر کے بعد فریقین کے درمیان کسی نئی جھڑپ کی تصدیق نہ ہونے سے کشیدگی میں عارضی کمی کے اشارے ملے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف تازہ امریکی کارروائی زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی۔ کپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو صرف 4 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ 10 روزہ اوسط تقریباً 13 جہاز ہے۔
امریکہ کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل تیل گزرا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے خام تیل کی سب سے بڑی ترسیل ہے۔


Comments