ایف بی آر کی براہِ راست ٹیکس وصولی کا 5.2 فیصد کا فریب
- ایف بی آر کی براہِ راست ٹیکس وصولی کا 5.2 فیصد کا دعویٰ گمراہ کن، حقیقی انکم ٹیکس کا تناسب جی ڈی پی کے تقریباً 3 فیصد تک محدود ہے
ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں یکم جولائی 2026 کو ہونے والی تقریبات غیر معمولی حد تک پُرتکلف اور نمائشی تھیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سالانہ ٹیکس وصولی کو ’’تاریخی‘‘ اور ’’سنگِ میل‘‘ کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا سہرا مسلسل اصلاحات کے سر باندھا اور افسران سے کہا کہ وہ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور ان کی ٹیم کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
سرکاری پریس ریلیز میں مضبوط ریونیو کارکردگی کو پاکستان کے کم ترین مالیاتی خسارے اور بلند ترین پرائمری سرپلس کے حصول میں معاون قرار دیا گیا۔
تاہم، بعد ازاں وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ’جولائی تا جون 2025-26 کے مالیاتی آپریشنز‘ اس کامیابی کی ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ 126.870 کھرب روپے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں ایف بی آر نے 13.010 کھرب روپے جمع کیے، جو جی ڈی پی کا 10.3 فیصد بنتا ہے۔
’’براہِ راست ٹیکس‘‘ کی وصولی 6.586 کھرب روپے رہی، جو جی ڈی پی کا 5.2 فیصد ہے، جبکہ سیلز ٹیکس 4.254 کھرب روپے، کسٹمز ڈیوٹی 1.331 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 840 ارب روپے رہی۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے براہِ راست ٹیکس معمولی طور پر بالواسطہ ٹیکسوں سے زیادہ رہا۔ تاہم معاشی اعتبار سے یہ درجہ بندی گمراہ کن ہے۔
سب سے پہلے ہدف کو دیکھیں۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ابتدائی ٹیکس وصولی کا ہدف 14.130 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اسے ایک سے زیادہ مرتبہ کم کیا گیا اور بالآخر 12.957 کھرب روپے کر دیا گیا۔
اس کے بعد دو مرتبہ نظرثانی شدہ آخری ہدف عبور کرنے کو سالانہ ہدف کے حصول کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگر اصل ہدف کے مقابلے میں دیکھا جائے تو وصولی تقریباً 1.12 کھرب روپے کم رہی۔ ہدف کی لکیر آگے پیچھے کرنے سے وصولی میں کمی کو ادارہ جاتی اصلاحات کی کامیابی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
نہ ہی ٹیکس وصولی کی پیداواری صلاحیت میں کوئی بہتری آئی۔ ایف بی آر کی اپنی ’سالانہ رپورٹ 2024-25‘ کے مطابق وصولی 11.744 کھرب روپے اور ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد تھا۔ مالی سال 2025-26 میں وصولی تقریباً 10.8 فیصد بڑھ کر 13.010 کھرب روپے ہوگئی، جبکہ جی ڈی پی کا حجم بھی تقریباً اسی شرح سے بڑھا۔ چنانچہ تناسب 10.3 فیصد ہی رہا۔
اضافی حاصل ہونے والی رقم دراصل برائے نام معاشی حجم میں اضافے، بلند تر شرحوں اور خودکار وصولی کے ذرائع کا نتیجہ ہے؛ اس سے ٹیکس نیٹ میں وسعت، بہتر تشخیص یا مؤثر نفاذ ثابت نہیں ہوتا۔
براہِ راست ٹیکس جی ڈی پی کا محض 5.2 فیصد ہونے کا سرکاری اعتراف سرخی سے کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔ محض اس بنیاد پر کوئی ٹیکس براہِ راست ٹیکس نہیں بن جاتا کہ اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت وصول کیا گیا ہے۔
حقیقی انکم ٹیکس خالص آمدن پر، ٹیکس دہندہ کی ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق عائد ہوتا ہے۔ کاروباری حجم پر کم از کم ٹیکس، مجموعی وصولیوں پر قیاسی یا کم از کم ٹیکس اور لین دین سے منسلک حتمی یا الگ بلاک کے تحت عائد ٹیکس اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
بہت سے معاملات میں ان ٹیکسوں کا بوجھ لاگت میں شامل ہو کر صارفین تک منتقل ہوجاتا ہے۔ حسابی ریکارڈ میں یہ انکم ٹیکس ہوتے ہیں، لیکن معاشی اثر کے اعتبار سے بالواسطہ ٹیکس بن جاتے ہیں۔
تازہ ترین دستیاب طریقہ کار کے اعتبار سے اعداد و شمار اس ’’فریب‘‘ کی وسعت واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے لیے ایف بی آر کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خالص انکم ٹیکس وصولی 5.713 کھرب روپے رہی۔ اس میں ودہولڈنگ ٹیکس 3.372 کھرب روپے اور نام نہاد رضاکارانہ ادائیگیاں 2.115 کھرب روپے تھیں، جن میں صرف ایڈوانس ٹیکس 1.894 کھرب روپے تھا، جبکہ موجودہ اور سابقہ واجبات کی طلب پر وصولی محض 266.7 ارب روپے رہی۔
جیسا کہ ہمارے سابقہ مضمون ’ایف بی آر کی تباہ کن ’ودہولڈنگائزیشن‘، بزنس ریکارڈر، 10 اپریل 2026‘ میں بتایا گیا تھا، انکم ٹیکس کا 95.4 فیصد حصہ ودہولڈنگ، ایڈوانس ٹیکس اور ریٹرن کے ساتھ ادائیگی کے ذریعے وصول ہوا۔
صرف 4.6 فیصد وصولی طلب کی بنیاد پر ہوئی، یعنی تشخیص اور ٹیکس کے نفاذ کا وہ نمایاں حصہ جو براہِ راست ایف بی آر کی کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل نہیں کہ اپیلوں میں بعد ازاں کتنی رقم واپس کردی گئی۔
اس وصولی کی ساخت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اسی سالانہ رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹس پر ودہولڈنگ ٹیکس 728.4 ارب روپے، تنخواہوں پر 605.6 ارب روپے، بینکوں کے منافع اور سیکیورٹیز پر 475.1 ارب روپے، درآمدات پر 421.8 ارب روپے، بجلی کے بلوں پر 144.4 ارب روپے، ٹیلی فون کے استعمال پر 123.4 ارب روپے، برآمدات پر 123.8 ارب روپے جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت پر 235.9 ارب روپے رہا۔
تنخواہ پر عائد ٹیکس بلاشبہ براہِ راست ٹیکس ہے۔ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن پر بعض ٹیکس بھی براہِ راست ٹیکس دہندہ ہی برداشت کرتا ہے، اگرچہ الگ بلاک کے تحت ٹیکس عائد کرنے سے آمدن کو یکجا کرنے اور شرحوں میں بتدریج اضافے کا اصول ختم ہوجاتا ہے۔ باقی بڑی مقدار میں ٹیکس ایسے لین دین سے وصول کیا جاتا ہے جو وصول کنندہ کی حتمی خالص آمدن سے قطع نظر عائد ہوتے ہیں اور لاکھوں ایسے افراد کے لیے جن کے لیے ریفنڈ کا دعویٰ کرنے کی لاگت برداشت کرنا مشکل ہے، اصولاً ہی ایڈجسٹ ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔
مالیاتی آپریشنز کی رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کے لیے عام انکم ٹیکس اور کم از کم، قیاسی اور لین دین پر عائد ٹیکسوں کے درمیان تقسیم ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ عدمِ انکشاف خود ایک اہم معاملہ ہے۔
ایف بی آر اور ریونیو ڈویژن کی تازہ ترین سالانہ رپورٹس میں دی گئی ساخت کو سامنے رکھتے ہوئے اور ان ٹیکسوں کو الگ کرنے کے بعد جو خالص آمدن کے بجائے کاروباری حجم، مجموعی وصولیوں یا لین دین پر عائد ہوتے ہیں، معاشی اعتبار سے قابلِ دفاع انکم ٹیکس کا تناسب جی ڈی پی کے تقریباً 3 فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ سرکاری طور پر شائع شدہ اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک تخمینہ ہے، تاہم ٹیکس کے حقیقی بوجھ کے اعتبار سے یہ غیر مشروط طور پر 5.2 فیصد کے دعوے سے کہیں زیادہ درست تصویر پیش کرتا ہے۔
اسی حساب سے ایف بی آر کے مجموعی 10.3 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں مؤثر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ سرکاری طور پر بتائے گئے 5.1 فیصد کے بجائے تقریباً 7 فیصد بنتا ہے۔
یہ نتیجہ ایک دوسرے اخبار میں ایف بی آر کی مالی سال 2024-25 کی کارکردگی کے بارے میں ہماری چھ حصوں پر مشتمل تفصیلی جائزہ رپورٹ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں سیلز ٹیکس کا تقریباً تین پانچواں حصہ درآمدی مرحلے پر وصول کیا گیا۔ کسٹمز ڈیوٹی بھی درآمدی سامان کی کلیئرنس سے قبل ہی وصول کرلی جاتی ہے۔
مقامی سیلز ٹیکس کا بڑا حصہ بجلی، پٹرولیم مصنوعات، چینی، سیمنٹ اور چند دستاویزی شعبوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بینک، یوٹیلیٹی کمپنیاں، درآمد کنندگان اور دیگر ودہولڈنگ ایجنٹس وصولی کا بیشتر کام انجام دیتے ہیں۔ ایف بی آر کی انتظامی کامیابی کا دعویٰ بڑی حد تک اس رقم پر مبنی ہے جو کسی بامعنی آڈٹ یا ٹیکس اسیسمنٹ سے پہلے ہی قومی خزانے میں پہنچ جاتی ہے۔
وسیع تر مالیاتی منظرنامہ بھی اسی نکتے کو تقویت دیتا ہے۔ مجموعی نان ٹیکس ریونیو 5.555 کھرب روپے، یعنی جی ڈی پی کے 4.4 فیصد تک پہنچ گیا، جس میں اسٹیٹ بینک کا 2.428 کھرب روپے کا منافع اور پٹرولیم لیوی کی مد میں 1.567 کھرب روپے شامل تھے۔ پٹرولیم لیوی دراصل بالواسطہ اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بننے والی وصولی ہے، جسے قابلِ تقسیم محاصل کے پول سے باہر رکھا جاتا ہے۔
2.6 فیصد کے جس مجموعی مالیاتی خسارے کو غیر معمولی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، اس میں صوبوں کا 1.450 کھرب روپے کا سرپلس بھی شامل تھا؛ وفاقی مالیاتی خسارہ خود 4.763 کھرب روپے رہا۔ یہ اہم حسابی نتائج ضرور ہیں، لیکن ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایف بی آر میں کوئی بنیادی تبدیلی آچکی ہے۔
وزیر خزانہ نے 599 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کو بھی نمایاں کامیابی قرار دیا۔ ٹیکس دہندگان کے لیے محض جاری کی گئی رقم، جس میں آخری دن کی ادائیگی کو بھی ریکارڈ کے طور پر پیش کیا گیا، سے زیادہ اہم زیرِ التوا اور تصدیق شدہ ریفنڈز کا حجم، ان کی مدت اور تصفیے میں لگنے والا وقت ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19-اے عوامی مفاد کے اعداد و شمار کی فراہمی کا تقاضا کرتا ہے۔
ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ ہر ٹیکس کے حوالے سے مجموعی وصولی، واجب الادا اور ادا کیے گئے ریفنڈز، عام، کم از کم، قیاسی اور الگ بلاک کے تحت عائد ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم، ریٹرن کے ساتھ کی گئی ادائیگیاں، اپیل کے بعد برقرار رہنے والی ٹیکس اسیسمنٹس، زیرِ التوا واجبات کی وصولی اور ٹیکس آمدن ظاہر کرنے والے نئے فائلرز کے اعداد و شمار جاری کرے۔
مصنوعی ذہانت، اسکینرز اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈز ناقص ٹیکس فلسفے کا علاج نہیں کرسکتے۔ پاکستان کو حقیقی آمدن پر وسیع ٹیکس نیٹ کے ساتھ کم اور قابلِ پیش گوئی شرحوں پر ٹیکس عائد کرنے، ظالمانہ کم از کم اور قیاسی ٹیکس نظام ختم کرنے، ودہولڈنگ ٹیکس کو نمایاں طور پر معقول بنانے، فوری ریفنڈز، بغیر بالمشافہ رابطے کے خطرے کی بنیاد پر آڈٹ اور غیر ٹیکس شدہ دولت کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے، نہ کہ بار بار تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروباروں پر مزید بوجھ ڈالنے کی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ 13.010 کھرب روپے کی وصولی پاکستانی روپے میں سب سے بڑی برائے نام وصولی ہے یا نہیں۔ افراطِ زر اور برائے نام معیشت کے حجم میں اضافے کے باعث ہر سال نئے برائے نام ریکارڈ بننا معمول کی بات ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا ایف بی آر نے حقیقی ٹیکس استعداد کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھایا، اصل ہدف حاصل کیا، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگیوں میں اضافہ کیا، ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق ٹیکس عائد کیا اور ایسے ٹیکسوں پر انحصار کم کیا جو بالآخر صارفین یا دوسرے طبقات تک منتقل ہوجاتے ہیں۔
ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار ان تمام سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ کھڑے ہو کر بجائی جانے والی تالیاں محض ایک حسابی درجہ بندی کی کامیابی پر تھیں۔ براہِ راست ٹیکس کا 5.2 فیصد تناسب، اور اس کے پیچھے موجود تقریباً 3 فیصد کی حقیقت، مسلسل ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments