قرض اور جی ڈی پی
- پاکستان کو قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرنے کی طویل عرصے سے جاری روایت ترک کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جامع ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات خود وضع کرکے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہوں گی۔
مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 16.2 فیصد کے برابر موجودہ اخراجات، جو مالی سال 2025-26 میں مجموعی وفاقی و صوبائی بجٹ کے 93 فیصد سے زائد بنتے ہیں، ملک کے ناقابلِ حل بجٹ خسارے کی بنیادی وجہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔ یہی صورتحال آنے والی حکومتوں کو ملکی اور عالمی منڈیوں سے مسلسل بڑھتی ہوئی رقوم قرض لینے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ تخمینہ گزشتہ ہفتے سامنے آیا، مالی سال 2025-26 کے اختتام کے تقریباً 45 روز بعد، جب وزارت خزانہ نے گزشتہ مالی سال کے وفاقی اور صوبائی مالیاتی آپریشنز کا مجموعی خلاصہ جاری کیا۔ تاہم وزارت نے اعداد و شمار کو عبوری قرار دے کر ضرورت پڑنے پر ان میں تبدیلی کی گنجائش بھی برقرار رکھی ہے۔
موجودہ اخراجات میں اضافے کا ایک چوتھائی حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں، یعنی 5.5 فیصد، جبکہ 2 فیصد دفاعی اخراجات سے متعلق تھا۔ یوں 16.2 فیصد کے مجموعی موجودہ اخراجات میں سے 7.5 فیصد ایسے شعبوں پر خرچ ہوا جنہیں کسی بھی حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر سمجھا جاتا ہے۔ قرضوں کے سود اور اصل زر کی بروقت ادائیگی سے انکار ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل سکتا ہے، جو ان ممالک کے تباہ کن تجربات کے پیش نظر ناقابلِ قبول نتیجہ ہوگا۔ دوسری جانب دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے نے پاکستان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام متعلقہ آپریشنل اخراجات پورے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ موجودہ اخراجات میں قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں اضافہ کیوں ہوا؟ جاری کردہ عبوری مجموعی اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا جون قرضوں پر سود کی مجموعی ادائیگی 6.947 کھرب روپے رہی، جس میں وفاقی حکومت کا حصہ 6.030 کھرب روپے جبکہ صوبائی حکومتوں کی وفاق کو ادا کی جانے والی مجموعی رقم 93.792 ارب روپے تھی۔ اس میں پنجاب کا حصہ 43.49 ارب، سندھ کا 31.38 ارب، خیبر پختونخوا کا 17.23 ارب اور بلوچستان کا 1.68 ارب روپے رہا۔
اس حوالے سے دو نکات انتہائی اہم ہیں۔
اول، پاکستان کی پالیسی ریٹ اس وقت 11.5 فیصد ہے، جو خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ سری لنکا میں یہ شرح 8.75 فیصد اور بنگلہ دیش میں 9.5 فیصد ہے۔ سری لنکا نے چار سال قبل خودمختار قرضوں میں ڈیفالٹ کیا تھا، جبکہ بنگلہ دیش کو تقریباً دو سال قبل سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی شرح منافع 11.96 فیصد جبکہ تین ماہ کے قلیل مدتی سرکاری کاغذات پر اوسط وزنی شرح تقریباً 11.42 فیصد ہے، جو اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کے قریب ہے۔
یہ شرح خطے کے دو بڑے مسابقتی ممالک کی شرحوں سے کہیں زیادہ ہے؛ بھارت میں شرح 5.25 فیصد جبکہ چین میں سات روزہ شرح 1.4 فیصد ہے۔
امریکا سے پاکستان کا موازنہ زیادہ معنی خیز نہیں، کیونکہ دونوں معیشتوں میں وسیع فرق ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ امریکی حکومت جس شرح پر مارکیٹ سے قرض لیتی ہے وہ پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈالر اب بھی دنیا کی بڑی ریزرو کرنسی ہے، اگرچہ عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر اس کی سابقہ بالادستی کو بڑھتے ہوئے چیلنجز درپیش ہیں۔
اسی وجہ سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کم شرح سود سے فائدہ اٹھانے پر غیر معمولی زور دیا۔ 5 اگست 2026 کو تین ماہ کے ٹریژری بل کی شرح 3.8 فیصد، 10 سالہ بانڈ کی 4.6 فیصد اور 30 سالہ بانڈ کی شرح 5 فیصد سے زائد تھی، جس کے ذریعے تقریباً 2 کھرب ڈالر کے بجٹ خسارے کی مالی اعانت کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی نے بجٹ میں قرض لینے کی لاگت کم رکھی، مگر امریکی صارفین کو بلند افراطِ زر اور بڑھتی ہوئی شرح سود کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان میں قرض لینے کے جواز کے طور پر قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 70 سے 74 فیصد بتایا جاتا ہے، جس کا انحصار برائے نام جی ڈی پی کے حساب پر ہے۔ یہ شرح مغربی ممالک کے مقابلے میں بظاہر بہتر ہے، جنہیں اپنے مضبوط معاشی اشاریوں، انویسٹمنٹ گریڈ ریٹنگز اور بعض صورتوں میں یورپی یونین جیسی بڑی تنظیموں کی رکنیت کے باعث قرض تک آسان رسائی حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو یہ سہولت حاصل نہیں۔
امریکا میں قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 124 فیصد، یونان میں 149 فیصد، فرانس میں 138 فیصد، اٹلی میں 137 فیصد، بیلجیم میں 106 فیصد اور برطانیہ میں 103 فیصد ہے۔
آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق خطے کے ممالک میں مجموعی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب بھارت میں 106.9 فیصد، سری لنکا میں 89.7 فیصد اور بنگلہ دیش میں 41.8 فیصد ہے، جبکہ چین میں یہ شرح بھی 106.9 فیصد ہے۔ تاہم چین اور بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں زرمبادلہ کے کہیں بڑے ذخائر موجود ہیں۔
اپریل 2026 میں آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ ’’مالیاتی پالیسی دباؤ میں: بلند قرض، بڑھتے خطرات‘‘ میں کہا گیا کہ 2025 میں عالمی سرکاری قرض جی ڈی پی کے تقریباً 94 فیصد تک پہنچ گیا اور 2029 تک 100 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اپریل 2025 کے اندازے سے ایک سال پہلے ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سماجی ضروریات، دفاع اور اسٹریٹجک خودمختاری پر بڑھتے اخراجات کے ساتھ قرضوں پر سود کے بڑھتے بوجھ نے سرکاری مالیات کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مالیاتی اثرات نے ان کمزوریوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ خودمختار قرضوں کی منڈیوں میں ساختی تبدیلیاں، بالخصوص لیوریجڈ غیر بینکاری مالیاتی اداروں کا بڑھتا کردار اور امریکی ٹریژری کی محفوظ اثاثے کی حیثیت میں کمی، قیمتوں میں اچانک تبدیلی کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مضبوط اور کمزور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جن ممالک کو قرض کے حصول کے لیے سخت حالات کا سامنا ہے، ان کے لیے قابلِ اعتماد مالیاتی استحکام اور واضح و مستقل قواعد ہی مارکیٹ کا اعتماد بحال کرنے کی بنیاد ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ مہنگی ایندھن سبسڈیز کا خاتمہ اور ٹیکس اخراجات کو معقول بنا کر اور ٹیکس دائرہ وسیع کرکے محصولات میں اضافہ، قابلِ اعتماد درمیانی مدت کے مالیاتی منصوبوں کے لیے بنیادی اقدامات ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے لیے ٹیکس بیس وسیع کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اسی طرح ممکنہ مالی ذمہ داریوں سے نمٹنا بھی اہم ہے۔ سرکاری اداروں میں ایسی اصلاحات ضروری ہیں جو حکومتی ضمانتوں کو محدود کریں، سرکاری منتقلیاں کم کریں اور مالی نگرانی و رپورٹنگ بہتر بنائیں تاکہ مستقبل میں قرضوں کے غیر متوقع بوجھ سے بچا جا سکے۔
آخرکار پاکستان کو ماضی کی اس طویل روایت کو ترک کرنا ہوگا جو آج بھی جاری ہے، یعنی موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا۔ اس کے بجائے موجودہ اخراجات میں کمی کرکے بجٹ خسارہ کم کرنا ہوگا تاکہ نہ صرف پیداواری شعبوں کو ترقی کا موقع مل سکے بلکہ قرض دینے والے کثیرالجہتی اور دوطرفہ اداروں کی ہدایات پر متعدد سکڑاؤ پر مبنی مالیاتی و زری پالیسیوں پر عمل کی ضرورت بھی کم ہو۔ ساتھ ہی ملک کو اپنے طور پر جامع ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات وضع کرکے ان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرنا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments