اسرائیلی حملے مذاکرات کے حوالے سے ’واضح پیغام‘ ہیں، لبنانی صدر
- لبنانی صدر عون نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کردی
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ملک کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ’’واضح پیغام‘‘ ہیں۔ یہ بیان اگلے ماہ کے اوائل میں روم میں امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور سے قبل سامنے آیا ہے۔
صدر عون نے جنوب میں جاری اسرائیلی حملوں اور ’’فریم ورک معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین‘‘ کی مذمت کی۔ ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں انصار نامی گاؤں میں ایک پورا خاندان جاں بحق ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’یہ خلاف ورزیاں مذاکراتی عمل کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہیں۔‘‘
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9 افراد جاں بحق ہوئے۔
نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی گاؤں انصار میں ایک مکان پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری سے 7 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیئر الظہرانی گاؤں پر حملے میں مزید 2 افراد مارے گئے۔
یہ حملے ان ہفتوں کے دوران ہونے والے بدترین حملوں میں شامل ہیں جب سے لبنان نے اسرائیل کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے امن فریم ورک سے اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے زیر قبضہ علاقوں میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرکے علاقے کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے نہیں کردیا جاتا۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
لبنان میں 2 مارچ سے جاری حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک کم از کم 4,300 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔


Comments