سیکیورٹی خدشات، ٹرمپ کا خفیہ طیارہ تبدیلی کا انکشاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ گزشتہ ماہ ترکیہ میں انہوں نے امریکی سیکرٹ سروس کی ہدایت پر خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کیا تاہم جس طیارے پر انہوں نے بعد میں سفر کیا وہ پھر بھی ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق انقرہ میں ایک نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ایرانی قاتلانہ حملے کے خطرے کے پیش نظر ایک غیر معمولی خفیہ کارروائی کے تحت ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے ایک فوجی طیارے میں کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے اس تبدیلی کو ظاہر نہیں کیا تھا اور یہ اس وقت تک ایک راز رہا جب تک کہ سب سے پہلے پیر کو واشنگٹن پوسٹ نے اس کی رپورٹنگ نہیں کی۔
بعض میڈیا مبصرین نے سوال اٹھایا کہ آیا اس کارروائی کے نتیجے میں ٹرمپ کے ساتھ سفر کرنے والے ان کے معاونین اور صحافیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کیونکہ وہ اس طیارے میں سوار تھے جس کے بارے میں سمجھا جا رہا تھا کہ صدر بھی اسی میں سفر کررہے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں دراصل جس طیارے پر میں نے سفر کیا وہ زیادہ خطرے میں تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرے خیال میں وہ طیارہ زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ ممکنہ طور پر حملہ آور اسی طیارے کو نشانہ بناتے جس کے بارے میں انہیں معلوم ہوتا کہ میں اس میں سفر کررہا ہوں۔
سوشل میڈیا پر ایک دن تک ٹرمپ کے کیٹرنگ ٹرک میں چھپنے سے متعلق میمز گردش کرنے کے بعد اپنی شخصیت اور تشخص کے حوالے سے حساس امریکی صدر جو اکثر خود کو ایک بہادر اور دلیر رہنما کے طور پر پیش کرنے والی میمز کی تشہیر کرتے ہیں نے کہا کہ وہ صدر کی حفاظت پر مامور ادارے سیکرٹ سروس کی ہدایات پر عمل کررہے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیکرٹ سروس پر منحصر ہے۔ میں صرف وہی کرتا ہوں جو وہ چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مجھمے لگتا ہے کہ وہاں کوئی خطرہ موجود تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں زیادہ نہیں پوچھا۔ مجھے بہت سی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ترکیہ سے برطانیہ جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں سفر کررہے تھے۔
تاہم پوسٹ نے پیر کے روز نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لیکن ٹرمپ کے طیارے میں سوار ہونے کے چند ہی لمحوں بعد وہ خفیہ طور پر کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے اس سے باہر نکلے اور برطانیہ جانے والی پرواز کے لیے ایک دوسرے طیارے میں سوار ہو گئے۔
ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے مرمت شدہ طیارے پر انقرہ پہنچے تھے، تاہم ملک سے روانگی کے موقع پر انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ وہ پرانے ایئر فورس ون میں سفر کریں گے جس پر نئے طیارے کی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔
نیٹو اجلاس کا یہ دورہ اس نئے طیارے کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا جس کی تیزی سے کی جانے والی تزئین و آرائش پر اس کی لاگت اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہورہا تھا اور ایران ترکیہ کا ہمسایہ ملک ہے۔

Comments