مہنگائی میں کمی مگر خطرات بدستور برقرار
- گزشتہ سہ ماہی کے تینوں ماہ میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرنے کے بعد اب ہیڈ لائن مہنگائی دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے
گزشتہ سہ ماہی کے تینوں ماہ میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرنے کے بعد اب ہیڈ لائن مہنگائی دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) جولائی 2026 میں 9.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ ماہ یہ شرح 11.1 فیصد تھی۔
اگرچہ مجموعی مہنگائی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ شرح ماہرین کے اندازوں سے زیادہ رہی، کیونکہ ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔
مہنگائی بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں اشیائے خورونوش، خصوصاً ٹماٹر اور گندم شامل ہیں، جبکہ کمیونیکیشن سب انڈیکس میں غیر معمولی اضافہ اور موٹر گاڑیوں کے ٹیکس میں نمایاں نظرثانی نے بھی مہنگائی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

آئندہ دنوں میں مہنگائی اگلے دو ماہ کے دوران دوبارہ دوہرے ہندسے تک پہنچ سکتی ہے اور امکان ہے کہ یہ 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ اس صورتحال اور جاری امریکا ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ستمبر میں شرح سود میں کمی کی توقع رکھنے والوں کو فی الحال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
جولائی میں غذائی اشیا کے قیمتوں کے اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر 4.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد سالانہ بنیاد پر اضافہ 10.6 فیصد تک پہنچ گیا۔خراب ہونے والی اور محفوظ رکھی جانے والی دونوں اقسام کی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر 17.7 فیصد جبکہ خراب نہ ہونے والی اشیا کی قیمتیں 2.3 فیصد بڑھیں۔خراب ہونے والی اشیا میں اضافہ بنیادی طور پر ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث ہوا، جہاں شہری علاقوں میں ٹماٹر کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر 117 فیصد بڑھیں، جبکہ تازہ سبزیوں کی قیمتوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔
خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتیں معمول کے طلب اور رسد کے چکر کے باعث ممکنہ طور پر دوبارہ کم ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔ تاہم اصل تشویش گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی ہے۔شہری علاقوں میں گندم کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 7.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ حیران کن طور پر 72 فیصد تک پہنچ گیا۔

پنجاب حکومت گندم کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار نجی شعبے کے ذخیرہ اندوزوں کو قرار دے رہی ہے۔ تاہم اسے اپنی جانب سے بروقت گندم کے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔فصل کی کٹائی کے موسم میں پنجاب حکومت نے روٹی کی قیمتیں مزید کم کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر اپنے گندم ذخائر مارکیٹ میں جاری کیے، جبکہ اس سے ملتا جلتا اقدام گزشتہ سیزن میں وفاقی حکومت نے درآمدات کے ذریعے کیا تھا۔
اب اس فیصلے کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال متوقع تھی اور اس کی نشاندہی پہلے بھی کی جا چکی تھی۔حکومت نے عارضی طور پر قیمتیں کم کرنے کا مقصد تو حاصل کر لیا، لیکن اس کی قیمت کسانوں کی آمدنی میں کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑی، جس نے مجموعی معاشی بحالی پر منفی اثر ڈالا۔اب قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں جبکہ کسانوں کی مشکلات برقرار ہیں۔
یہی ہوتا ہے جب حکومت ایک طرف اصلاحات متعارف کراتی ہے، جیسے سپورٹ پرائس کا خاتمہ، لیکن دوسری طرف مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے متضاد پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔
یہی گندم کی کہانی ہے اور اب یہی مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔حکومت ایسے وقت میں گندم درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے جب عالمی منڈی میں بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ گندم کی قیمتیں آخر کہاں جا کر مستحکم ہوتی ہیں۔ تاہم مثبت بات یہ ہے کہ اس سال فصل اچھی ہوئی ہے۔
غیر غذائی اشیا میں ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافے میں سے ایک موٹر گاڑیوں کے ٹیکس میں ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ حکومت نے سڑکوں پر گاڑیاں رکھنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔موٹر گاڑیوں کے ٹیکس کا انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 39 فیصد بڑھا، جس نے ٹرانسپورٹ کے ذیلی اشاریے میں کمی کے اثرات کو کم کر دیا۔ٹرانسپورٹ انڈیکس میں 5.7 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ موٹر فیول کی قیمتوں میں 8.7 فیصد کمی تھی۔تاہم مجموعی ٹرانسپورٹ انڈیکس اب بھی سالانہ بنیاد پر 15 فیصد زیادہ ہے، اور امکان ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بتدریج بڑھنے کے ساتھ اس پر مزید دباؤ برقرار رہے گا۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ رہائش اور یوٹیلیٹیز کا اشاریہ ماہانہ بنیاد پر 0.7 فیصد کم ہوا، جس کی وجہ بجلی کے چارجز میں منفی ایڈجسٹمنٹ تھی۔اس شعبے میں سالانہ اضافہ محدود ہو کر 7.1 فیصد رہا۔
بنیادی مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہی۔شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 8.6 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.1 فیصد رہی۔تاہم ماہانہ بنیادوں پر کچھ اضافہ دیکھا گیا، جہاں شہری اور دیہی بنیادی مہنگائی میں بالترتیب 0.7 فیصد اور 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ تقریباً کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔
حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) اور تھوک قیمتوں کا اشاریہ (ڈبلیو پی آءی) بدستور بلند سطح پر رہے۔تاہم گزشتہ چند ماہ کی بلند ترین سطح سے دونوں میں کمی آئی ہے۔ اس وقت ایس پی آءی 11.5 فیصد اور ڈبلیو پی آءی 9.5 فیصد پر ہے۔
مستقبل میں مہنگائی کا منظرنامہ عالمی سطح پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر منحصر ہوگا۔اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے اور اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
تاہم اگر قیمتیں کم ہوتی ہیں یا موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو مالی سال 2026-27 کے دوسرے نصف میں مجموعی مہنگائی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیانی مدت کے ہدف کے قریب آ سکتی ہے۔


Comments