سرکاری اداروں کی اصلاحات: تین دہائیوں کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق
- پاکستان کو کامیاب اصلاحات کا راستہ معلوم ہے، مسئلہ علم یا صلاحیت کا نہیں بلکہ مستقل مزاجی، مؤثر عمل درآمد اور سیاسی عزم کا ہے
یہ پاکستان کے سرکاری ملکیتی اداروں اور نجکاری پر مشتمل دس حصوں کی سلسلہ وار تحریر کا آٹھواں مضمون ہے۔ اس سے قبل شائع ہونے والے سات مضامین میں کارپوریٹ نظم و نسق، نجکاری، کامیاب اور ناکام نجکاری کے سودوں، نیز پاکستان ریلویز اور پی آئی اے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس مضمون میں ان تمام مباحث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق کو یکجا کیا گیا ہے، جبکہ آخری دو مضامین میں آگے کا لائحۂ عمل پیش کیا جائے گا۔
اصلاحات میں تاخیر کی قیمت
سبق اخذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس تاخیر کی قیمت ملک نے کس حد تک چکائی ہے۔
پاکستان نے اپنے تجارتی سرکاری اداروں کی اصلاحات کا عمل 1980 کی دہائی کے اواخر سے مسلسل مؤخر کیے رکھا۔ اس تاخیر کی مجموعی لاگت کا کوئی مستند آڈٹ شدہ تخمینہ موجود نہیں، کیونکہ یہ خساروں، سرکاری سبسڈی، حکومتی ضمانتوں، قرضوں کی ذمہ داری اپنے سر لینے، واجبات کی عدم وصولی، گردشی قرضوں اور ناقص خدمات جیسے متعدد عوامل پر مشتمل ہے۔ اس لیے تین دہائیوں پر محیط کسی بھی مجموعی تخمینے کو صرف اندازہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں پیش کیے گئے مطالعاتی جائزے صرف جزوی تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان ریلویز گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران دو کھرب روپے سے زائد حکومتی وسائل استعمال کر چکی ہے۔
دوسری جانب، پی آئی اے نے تنظیمِ نو سے قبل 800 ارب روپے سے زیادہ کے واجبات اور خسارے جمع کیے، جبکہ پاکستان اسٹیل ملز بند پلانٹ کی دیکھ بھال، خساروں، قرضوں اور حکومتی ضمانتوں کی مد میں قومی خزانے پر سینکڑوں ارب روپے کا بوجھ ڈال چکی ہے۔
کے-الیکٹرک کی نجکاری کے باوجود حکومت کی مالی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوئیں۔ کمپنی کی آخری شائع شدہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق سبسڈی، متنازع واجبات اور دیگر دعووں کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کھرب روپے تک پہنچ چکی تھی۔
توانائی کا شعبہ اس سے بھی زیادہ بڑا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ بجلی کے شعبے کا گردشی قرض نمایاں کمی کے باوجود اب بھی تقریباً دو کھرب روپے ہے، تاہم یہ صرف ایک مخصوص وقت کی تصویر ہے۔ ان واجبات کو مختلف ادوار میں بجٹ، بینکوں سے حاصل کردہ مالی معاونت اور صکوک کے ذریعے بارہا منتقل، ری فنانس یا ادا کیا جاتا رہا ہے۔
اسی طرح گیس کے شعبے کا گردشی قرض بھی تقریباً تین کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ٹیرف میں تاخیر، گیس کے غیر محسوب نقصانات، غیر ادا شدہ سبسڈیز اور واجبات کی کمزور وصولی شامل ہیں۔
یہ تمام مسائل صرف سرکاری اداروں کی انتظامی ناکامی کا نتیجہ نہیں۔ بجلی کی خام معاہدہ سازی، حکومتی پالیسی کے تحت مقرر کردہ نرخ اور سرکاری اداروں کی عدم ادائیگیاں بھی ریاستی ناکامیوں کی مثالیں ہیں۔ تاہم غیر مؤثر پیداواری، ترسیلی اور تقسیم کار کمپنیاں، کمزور بورڈز، سیاسی مداخلت اور تجارتی بنیادوں پر جوابدہی کے فقدان نے ان اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی اداروں نے اپنی سابقہ رپورٹس میں پاکستان کے سرکاری اداروں کے سالانہ مالی بوجھ کا تخمینہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 1.5 سے 2 فیصد کے برابر لگایا ہے۔
اگر ان تخمینوں کو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بڑھتی ہوئی برائے نام جی ڈی پی پر محتاط انداز میں لاگو کیا جائے تو سرکاری خزانے پر براہِ راست مجموعی مالی بوجھ 15 کھرب روپے سے کہیں زیادہ بنتا ہے۔ اگرچہ اس کی درست مقدار کا تعین ممکن نہیں، لیکن اس بوجھ کی وسعت واضح ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر معیشت کو پہنچنے والا مجموعی نقصان ہے۔ وفاقی تجارتی سرکاری اداروں کے پاس تقریباً 38 کھرب روپے مالیت کے اثاثے موجود ہیں، جو ملک کی جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہیں، مگر ان سے حاصل ہونے والا منافع انتہائی کم ہے۔ اگر ان اثاثوں کی کارکردگی میں محض 5 فیصد بہتری آ جائے تو سالانہ تقریباً 1.9 کھرب روپے کی اضافی معاشی قدر پیدا کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ قابلِ اعتماد توانائی، مؤثر ریلوے مال برداری، بہتر لاجسٹکس، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافے سے حاصل ہونے والے فوائد الگ ہیں۔ چنانچہ اصل نقصان صرف وہ رقم نہیں جو حکومت خرچ کرتی ہے، بلکہ وہ معاشی قدر بھی ہے جو یہ قومی اثاثے پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
اس کی واضح مثال بینکاری کے شعبے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یو بی ایل کی 2002 میں 12.35 ارب روپے میں نجکاری کی گئی تھی، جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بینک نے ٹیکس کے بعد تقریباً 86 ارب روپے منافع کمایا۔ اگرچہ ہر سرکاری ادارہ نجکاری کے بعد یو بی ایل جیسی کارکردگی نہیں دکھا سکتا، تاہم یہ مثال واضح کرتی ہے کہ مؤثر ملکیت، درست ترغیبات، مضبوط ضابطہ کاری اور بہتر انتظامی ڈھانچہ کسی سرکاری اثاثے کو قومی خزانے پر بوجھ بننے کے بجائے معاشی قدر پیدا کرنے والا ادارہ بنا سکتے ہیں۔
کارپوریٹ نظم و نسق سے متعلق اہم اسباق
اس پورے جائزے سے چار بنیادی نتائج سامنے آتے ہیں۔
اول، اس سلسلے کے گزشتہ مضامین میں جن بنیادی ساختی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، وہ بدستور موجود ہیں۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نامزدگی اب بھی سیاسی اور بیوروکریٹک اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد نہیں، وزارتوں کے عہدے کے لحاظ سے شامل ہونے والے ڈائریکٹرز بورڈ کی خودمختاری کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ ادارے کی قدر میں کمی آنے پر ڈائریکٹرز کو ذاتی طور پر کسی مؤثر جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اسی طرح عوامی خدمت سے متعلق غیر مالی معاونت یافتہ ذمہ داریاں اور کمزور احتسابی نظام جوابدہی کو مزید محدود کر دیتے ہیں۔ ایس او ای ایکٹ 2023، حکومتی ملکیتی پالیسی اور سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ اصلاحات کے لیے مفید ادارہ جاتی ڈھانچہ ضرور فراہم کرتے ہیں، مگر یہ بنیادی خامیاں اصلاحاتی عمل کو محض کاغذی کارروائی تک محدود کر سکتی ہیں۔
دوم، کارپوریٹائزیشن اصلاحات کا بنیادی نقطۂ آغاز ہے۔ ہر تجارتی سرکاری ادارے کی الگ قانونی حیثیت، اہل بورڈ، باقاعدہ مالیاتی حسابات، کاروباری منصوبہ اور واضح انتظامی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ پاکستان ریلویز آج بھی کمپنیز ایکٹ اور وفاقی تجارتی سرکاری اداروں کے دائرۂ کار سے باہر ایک منسلک محکمہ ہے اور اس کے آڈٹ شدہ کارپوریٹ مالیاتی گوشوارے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نومبر 2023 میں چار دیگر اداروں کو ایس او ای فریم ورک میں شامل کیے جانے کے باوجود پاکستان ریلویز اس سے باہر رہا۔
سوم، بورڈ اور انتظامیہ دونوں کو اپنی کارکردگی کے نتائج بھگتنا چاہییں۔ تقرریاں شفاف اور اہلیت پر مبنی طریقہ کار کے تحت ہونی چاہییں۔ ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو افسران کی کارکردگی قابلِ پیمائش معیار پر جانچی جائے، ان کی مدتِ ملازمت اور معاوضہ نتائج سے مشروط ہوں، جبکہ مسلسل ناقص کارکردگی، مفادات کے ٹکراؤ یا غیر ضروری مداخلت کی صورت میں انہیں عہدے سے ہٹا کر نااہل قرار دیا جا سکے۔ سیاسی بنیادوں پر برطرفی سے تحفظ کا مطلب احتساب سے استثنا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
چہارم، بروقت آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے اور سخت مالیاتی نظم ناگزیر ہیں۔ پاکستان ریلویز کے پاس کارپوریٹ مالیاتی حسابات موجود نہیں، توانائی کے شعبے کی کئی کمپنیاں برسوں کی تاخیر سے مالیاتی رپورٹس جاری کرتی ہیں، جبکہ کے-الیکٹرک نے مالی سال 2023 کے بعد سے اپنے مالیاتی گوشوارے شائع نہیں کیے۔ غیر مالی معاونت یافتہ ذمہ داریاں، حکومتی ضمانتیں اور بار بار دیے جانے والے بیل آؤٹ پیکیجز اداروں کی ناکامی کو چھپا دیتے ہیں اور اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر منتقل ہو جاتا ہے۔ شفاف معلومات کی فراہمی، حکومتی پالیسی کے تحت عائد ذمہ داریوں کے لیے واضح مالی وسائل اور غیر محدود حکومتی معاونت کا خاتمہ ہی مؤثر احتساب کی بنیاد ہیں۔
نجکاری سے حاصل ہونے والے اسباق
پاکستان کے اپنے تجربے سے سات اہم اسباق سامنے آتے ہیں۔
اول، خریدار یا اسپانسر کا معیار قیمت جتنا ہی اہم ہے۔ عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ایسے سرمایہ کار درکار ہوتے ہیں جو مالی طور پر مضبوط، انتظامی صلاحیت کے حامل، دیانت دار اور سرمایہ کاری کی استعداد رکھتے ہوں۔ متعلقہ شعبے کا تجربہ مفید ضرور ہے، لیکن اگر ضابطہ جاتی نظام مضبوط ہو تو معتبر سرمایہ کار مطلوبہ صلاحیت بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ بینکاری کی نجکاری میں ایس بی پی کی مؤثر نگرانی نے مثبت نتائج دیے، جبکہ کے-الیکٹرک ایسے سرمایہ کاروں کو فروخت کی گئی جنہیں متعلقہ شعبے کا تجربہ نہیں تھا اور نیپرا بھی مؤثر نگرانی کی صلاحیت سے محروم تھا۔ کمزور سرمایہ کار اور کمزور ریگولیٹر کا امتزاج تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
دوم، خریدار سے متعلق شفافیت لین دین مکمل ہونے تک برقرار رہنی چاہیے۔ کنٹرولنگ فریق میں کسی بھی تبدیلی کو ظاہر کرنا، اس کی وجوہات بیان کرنا اور اس کی منظوری لینا ضروری ہے۔ کے ای ایس پاور کی کے ای ایس سی نجکاری میں شمولیت کی مکمل وضاحت آج بھی، دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، سامنے نہیں آسکی۔ اسی طرح حقیقی مالکان اور سرمایہ کے ذرائع بھی واضح ہونے چاہییں۔
سوم، فروخت کے بعد معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان میں اکثر نجکاری مکمل ہونے کے بعد خریداروں کو ادائیگی اور دیگر معاہداتی ذمہ داریوں کا پابند بنانے میں ناکامی رہی ہے۔ کے-الیکٹرک کے عمل درآمد معاہدے پر عمل نہ کرانا اور پی ٹی سی ایل سے تقریباً 800 ملین ڈالر کی بقایا رقم وصول نہ کرنا اس بات کی مثالیں ہیں کہ فروخت کے بعد کمزور نگرانی کس طرح نجکاری کے مقاصد کو نقصان پہنچاتی ہے۔
چہارم، نجکاری کے ساتھ ساتھ ضابطہ جاتی اداروں کی صلاحیت میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ پاکستان ایک مثالی ریگولیٹر کے انتظار میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کر سکتا، تاہم نیپرا کو فوری طور پر اس قابل بنایا جانا چاہیے کہ وہ قابلِ اعتماد ٹیرف مقرر کرے، خدمات کے معیارات پر عمل درآمد یقینی بنائے، صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے اور سرکاری شعبے کی نااہلی کو نجی شعبے کی ناجائز منافع خوری میں تبدیل ہونے سے روکے۔
پنجم، مناسب پیشگی تیاری ہی بہتر قیمت دلاتی ہے۔ اکتوبر 2024 میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے صرف ایک بولی موصول ہوئی تھی، جو 10 ارب روپے کی تھی۔ چودہ ماہ بعد تین سرمایہ کار میدان میں آئے اور 75 فیصد حصص کے لیے کامیاب بولی 135 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ ریزرو قیمت 100 ارب روپے مقرر تھی اور مجموعی لین دین کی مالیت 180 ارب روپے رہی۔ اس دوران فضائی کمپنی اچانک مثالی ادارہ نہیں بن گئی تھی، بلکہ اس کے مالیاتی ڈھانچے، ٹیکس تنازع کے حل، پروازی روٹس تک رسائی اور نجکاری کے طریقہ کار کو سرمایہ کاری کے قابل بنایا گیا تھا۔
ششم، مسابقت بہتر قیمت اور عوامی اعتماد دونوں کو مضبوط کرتی ہے۔ اگرچہ تین معتبر بولی دہندگان بہتر سمجھے جاتے ہیں، لیکن اسے لازمی شرط نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ بعض خصوصی نوعیت کے سودوں میں دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد محدود ہو سکتی ہے۔ اصل اہمیت حقیقی مسابقت، شفاف پری کوالیفکیشن، آزادانہ اثاثہ جاتی قدر کے تعین اور کمزور مسابقت کی صورت میں واضح فیصلہ سازی کی ہے۔
ہفتم اور آخری سبق یہ ہے کہ نجکاری کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا اس سے حکومت کی مالی ذمہ داریاں واقعی ختم ہوئیں اور قومی اثاثے سے ریاست کو دوبارہ حقیقی قدر حاصل ہوئی یا نہیں۔ بینکاری کے شعبے نے یہ معیار پورا کیا۔ حکومتی معاونت ختم ہوئی، منافع اور ٹیکس ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، اور حکومت کو فروخت کیے گئے حصص کی مالیت سے کئی گنا زیادہ ٹیکس آمدنی حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس کے-الیکٹرک اس معیار پر پوری نہیں اتری۔ اس لیے ہر نجکاری معاہدے میں واضح ہونا چاہیے کہ کون سی ذمہ داریاں حکومت کے پاس رہیں گی، کون سے خطرات منتقل ہوں گے، کن سبسڈیز کی اجازت ہوگی اور عوامی خدمت سے متعلق ذمہ داریوں کی مالی اعانت کس طرح کی جائے گی۔
پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کامیاب اصلاحات کیسے کی جاتی ہیں، اور نہ ہی، جیسا کہ پی آئی اے کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے، ادارہ جاتی صلاحیت کا فقدان ہے۔ اصل مسئلہ ان اصولوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ، بڑے پیمانے پر اور ابتدائی مزاحمت کے سامنے پسپا ہوئے بغیر عمل درآمد کرنا ہے۔
اس سلسلے کے آخری دو مضامین میں اس امر کی وضاحت کی جائے گی کہ اصلاحات کے عمل، ادارہ جاتی ڈھانچے، قانونی نظام اور سیاسی معیشت میں اب کن بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments