حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد خام تیل دوبارہ 100 ڈالر کی سطح عبور کر گیا
- برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 6.64 ڈالر یا 7 فیصد اضافے کے بعد 100.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی
یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے دعوے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس پیش رفت نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت تقریباً معطل ہونے کے باعث عالمی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات مزید بڑھا دیے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت صبح 10:52 بجے (امریکی وقت) / 1452 جی ایم ٹی تک 6.64 ڈالر یا 7 فیصد اضافے کے بعد 100.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو مئی کے اواخر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی۔ عالمی معیار کے اس خام تیل کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور مسلسل نویں روز تکنیکی لحاظ سے اوور باٹ سطح پر رہی، جو ستمبر 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 5.18 ڈالر یا 6 فیصد اضافے کے بعد 92.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو 11 جون کے بعد پہلی مرتبہ 90 ڈالر سے اوپر گیا۔ دونوں معاہدوں میں مسلسل پانچویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
میٹاڈور اکنامکس کے چیف اکنامسٹ ٹِم سنائیڈر نے کہا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملے نے خام تیل کی عالمی قیمتوں کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی تجارت کے لیے ایک اور اہم بحری گزرگاہ متاثر ہونے کے باعث سپلائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔
سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ
حوثیوں نے سعودی عرب سے تیل لے جانے والے جہازوں کو باب المندب میں نشانہ بنا کر ایران سے جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سعودی عرب سے روانہ ہونے والی تیل کی ترسیل پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
حوثیوں نے جمعرات کو ایک فوجی کارروائی میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعد ازاں سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران حملے کے نتیجے میں دونوں میں سے ایک ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔
گولڈمین ساکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر 2027 تک آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ اگلے سال اس کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق اگر باب المندب اور نہر سویز بھی مسلسل متاثر رہیں تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکروں نے واپسی اختیار کر لی۔
پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں اور ”مکمل طور پر بند“ رہے گی، اور ایران سے رابطہ کیے بغیر کسی بھی آئل ٹینکر کو داخل یا خارج ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنووو کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کے باعث غیر ایرانی آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد ایرانی خام تیل کی لوڈنگ، جو رواں ماہ کے آغاز میں 15 سے 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی، غالباً صفر پر آ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے کم جہاز گزرنے کے باعث گزشتہ سات روز کے دوران خلیجی خطے میں خام تیل کی لوڈنگ کم ہو کر 25 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ گزشتہ 30 روز کے دوران یہ اوسطاً 60 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی حملے مکمل کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکہ اس کے کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا۔


Comments