لبنان کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن روانہ
- 2009 میں میشل سلیمان کے دورۂ امریکا کے بعد کسی لبنانی صدر کا یہ پہلا دورۂ واشنگٹن ہوگا
لبنانی صدر جوزف عون ہفتہ کو واشنگٹن کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ پیش رفت لبنان اور اسرائیل کے درمیان اٹلی میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے بعد سامنے آئی، جس کی تصدیق لبنانی ایوانِ صدر نے کی ہے۔
2009 میں میشل سلیمان کی امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کے بعد کسی لبنانی صدر کا یہ پہلا دورۂ واشنگٹن ہوگا۔
لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق جوزف عون امریکا میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں لبنان کی موجودہ صورتحال، بالخصوص جنوبی لبنان میں جنگ بندی کو مزید مؤثر بنانے، اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اس کے انخلا پر بات چیت کی جائے گی۔
اسرائیل اور لبنان نے اپریل میں امریکا کی سرپرستی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جن کا مقصد امن معاہدے تک پہنچنا اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔
26 جون کو واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا کرے گی، جبکہ لبنانی فوج دو پائلٹ زونز سے اپنی تعیناتی کا آغاز کرے گی۔
تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد کی ایک بنیادی شرط ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کا غیرمسلح ہونا ہے، جسے تنظیم نے دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس ہفتے روم میں ہونے والے تازہ مذاکرات کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے پائلٹ زونز پر عمل درآمد کے ڈھانچے اور رہنما اصولوں پر اتفاق کر لیا ہے۔
ادھر ایک لبنانی فوجی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ لبنانی فوج نے اسرائیلی قبضے والے علاقوں سے متصل متعدد دیہات، جن میں ضلع بنت جبیل کا قصبہ فرون بھی شامل ہے، میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ پائلٹ زونز سے متعلق شق پر عمل درآمد کی تیاری کی جا سکے۔
2 مارچ کو حزب اللہ نے اپنے اتحادی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد لبنان بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قابض ہے، جنہیں وہ ”سکیورٹی زون“ قرار دیتا ہے۔
ہفتہ کو لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیل نے صور اور نبطیہ کے علاقوں میں واقع دو قصبوں پر، جو نام نہاد سکیورٹی زون کے کنارے واقع ہیں، تازہ فضائی حملے کیے۔
دوسری جانب بیروت میں امریکی سفارت خانے نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔


Comments