امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، ایران کا کویت اور بحرین پر جوابی حملہ
- آبنائے ہرمز صرف ایران کی طے کردہ شرائط اور انتظامات کے تحت ہی دوبارہ کھولی جائے گی، باقر قالیباف
امریکی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کے مقصد سے ایران پر تازہ حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین پر حملے کیے ہیں جو جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو پٹری سے اتارنے کی تازہ ترین کشیدگی ہے۔
حملوں کی یہ تازہ لہر جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین مال بردار جہازوں پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی، اس وقت سامنے آئی جب اس سے چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی اب ختم ہوچکی ہے۔
امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ کی کمان سینٹکام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمان کی افواج نے ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے اضافی حملے شروع کر دیے ہیں تاکہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔
امریکہ بین الاقوامی اہم آبی گزرگاہ میں آزادانہ طور پر سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلااشتعال جارحیت پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔
امریکی حملوں سے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے کئی شہر لرز اٹھے اور بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ اس کے جواب میں ایران نے مسلسل دوسرے روز کویت اور بحرین پر حملے کیے جہاں امریکی فوج کے اہم اڈے قائم ہیں۔
کویتی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ (انٹرسیپٹ) کر رہے ہیں جب کہ قطر نے مختصر وقت کے لیے سکیورٹی خطرے کا الرٹ جاری کیا تاہم بعد ازاں صورتِ حال معمول پر آنے پر کلیئرنس دے دی۔
امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بدھ کو ایران کے خلاف کیے جانے والے امریکی حملے منگل کے حملوں کے مقابلے میں تعداد اور شدت دونوں کے لحاظ سے زیادہ ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز جہازوں پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی جارہی ہے۔ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کا جواب کہیں زیادہ سخت ہوگا!
آبنائے ہرمز پر کنٹرول جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل گزرتی تھی، تہران کو غیرمعمولی تزویراتی برتری فراہم کرتا ہے جس کے باعث وہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ بھی مؤثر طور پر تعطل (اسٹیل میٹ) کی کیفیت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ ایران نے جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران مذاکرات میں اپنا پلڑا بھاری رکھنے کیلئے ایسے اقدامات کا سہارا لیتا ہے۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں سیکھا کہ بدمعاشی کرنا اور اپنے وعدوں سے پھر جانا اب بغیر کسی قیمت کے ممکن نہیں رہا۔ میں واضح کر دوں، اگر تم حملہ کرو گے تو تم پر جوابی حملہ کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز صرف ایران کی طے کردہ شرائط اور انتظامات کے تحت ہی دوبارہ کھولی جائے گی، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔
حملوں کے اس تازہ تبادلے نے 17 جون کو دستخط کیے گئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو جنگ کے مستقل خاتمے کے معاہدے میں تبدیل ہونے کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل بدھ کو جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت دلچسپ سوال ہے۔ میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے۔ میں اب ان کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے بھی ہیں تو مجھے یقین نہیں کہ وہ برقرار رہے گا۔ میں نے انہیں بہت بے ایمان لوگ پایا ہے۔
تاہم ٹرمپ جنہوں نے پیچھے ہٹنے سے قبل بارہا فوجی کارروائی کو بڑھانے کی دھمکی دی ہے نے کہا کہ انہیں مکمل جنگ کی طرف واپسی کی توقع نہیں ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے یا نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر کچھ بھی ہوتا ہے تو وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا اور اس سے حالات مزید محفوظ ہوں گے۔
بدھ کے حملوں نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ آئل کے فیوچرز تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ اس کے باوجود قیمتیں اپریل کے آخر میں دیکھی گئی 120 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے کافی نیچے ہیں۔


Comments