BR100 Decreased By (-0.7%)
BR30 Decreased By (-0.59%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.82%)
BAFL 61.80 Decreased By ▼ -0.33 (-0.53%)
BIPL 29.29 Increased By ▲ 0.87 (3.06%)
BOP 37.42 Increased By ▲ 0.29 (0.78%)
CNERGY 8.51 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.19 Decreased By ▼ -0.33 (-1.61%)
DGKC 233.50 Decreased By ▼ -0.48 (-0.21%)
FABL 103.70 Decreased By ▼ -0.48 (-0.46%)
FCCL 57.91 Decreased By ▼ -0.72 (-1.23%)
FFL 17.92 Decreased By ▼ -0.18 (-0.99%)
GGL 26.05 Decreased By ▼ -0.38 (-1.44%)
HBL 319.49 Increased By ▲ 1.34 (0.42%)
HUBC 233.60 Decreased By ▼ -2.05 (-0.87%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.05 (-0.44%)
KEL 8.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
LOTCHEM 30.68 Increased By ▲ 0.12 (0.39%)
MLCF 107.10 Decreased By ▼ -2.41 (-2.2%)
OGDC 343.49 Decreased By ▼ -5.23 (-1.5%)
PAEL 47.23 Increased By ▲ 0.51 (1.09%)
PIBTL 18.71 Decreased By ▼ -0.15 (-0.8%)
PIOC 281.99 Decreased By ▼ -4.22 (-1.47%)
PPL 247.25 Decreased By ▼ -5.41 (-2.14%)
PRL 37.20 Increased By ▲ 0.75 (2.06%)
SNGP 118.79 Decreased By ▼ -1.76 (-1.46%)
SSGC 32.01 Decreased By ▼ -0.34 (-1.05%)
TELE 9.20 Increased By ▲ 0.11 (1.21%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.83 (6.62%)
TRG 67.57 Increased By ▲ 0.27 (0.4%)
UNITY 10.65 Decreased By ▼ -0.10 (-0.93%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

سمندری نگرانی کے اداروں اور قطر کے مطابق منگل کو چند گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں قطری ایل این جی بردار جہاز سمیت تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جس پر جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر نے ایران کے اس حملے کو ”ناقابلِ قبول“ قرار دیا ہے۔

برطانوی سمندری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق رات کے وقت ایک آئل ٹینکر نامعلوم میزائل کی زد میں آیا جس سے اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد مزید دو جہازوں پر حملے کیے گئے، جن میں سے کم از کم ایک کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

ایک ہفتے سے زائد عرصے کے نسبتاً سکون کے بعد ہونے والے ان حملوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی سے متعلق خدشات کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ نازک جنگ بندی کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔

تینوں جہاز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنے۔ عمان نے اپنی ساحلی پٹی کے ساتھ عارضی بحری راہداری قائم کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم ایران نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔

جنگ بندی میں ثالثی کرنے والے قطر نے اپنے ایل این جی بردار جہاز پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے تہران پر زور دیا کہ وہ ”علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے۔“

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ”آبنائے ہرمز کے قریب سفر کے دوران قطری جہاز ’الرقیات‘ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی پر ناقابلِ قبول حملہ ہے۔“

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے مزید کہا، ”ہم اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات اور ممکنہ اثرات کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہیں۔“

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔ یہ تنازع فروری کے آخر میں تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کی مرکزی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا مستقبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم اور متنازع مسئلہ بنا ہوا ہے، جن کا مقصد اس تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔

واضح پیغام

کنگز کالج لندن کے سکیورٹی امور کے ماہر آندریاس کریگ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”اس وقت ایک نازک مرحلہ ہے، جہاں ایران کی جانب سے مجوزہ ٹول یا فیس کے نظام کے متبادل پر غور کیا جا رہا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ایران واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی متبادل انتظام کو قبول نہیں کرے گا۔“

ان کے بقول، ”جو آئل ٹینکر ایرانی حکام کے ساتھ رجسٹریشن کے بغیر عمان کی مجوزہ بحری راہداری استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں سزا دی جائے گی۔“ انہوں نے اسے جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے پیر کی شب دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے۔

دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی۔

تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ سے پہلے کا نظام، جس کے تحت جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، دوبارہ بحال نہیں ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام اور بحری خدمات کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

اس سے قبل قطر نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی فضائی حملوں کے دوران ثالثی سے گریز کیا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے دوحہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کرکے مذاکراتی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کیا۔

Comments

200 حروف