آبنائے ہرمز کھل گئی، مگر خطرات اب بھی برقرار
- آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے نے اپنے ساتھ نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ایک ایسی منڈی کے لیے جو طویل عرصے تک سپلائی کے شدید بحران کے خدشے کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی، یہ یقیناً ایک بڑی راحت ہے۔ قیمتوں میں کمی آ چکی ہے، تاجر نسبتاً پرسکون ہیں اور درآمد کنندگان کو بالآخر کچھ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ مگر اسے مکمل معمول پر واپسی نہیں کہا جا سکتا۔
آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے نے اپنے ساتھ نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ وہ آئل ٹینکر جو کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے پھنسے ہوئے تھے، اب دوبارہ حرکت میں آ رہے ہیں، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس سے ایک غیر منظم اور مشکل ایڈجسٹمنٹ بھی جنم لے رہی ہے۔ بہت زیادہ کارگو ایک ہی وقت میں روانہ ہونے کی کوشش کریں گے۔ کویت، عراق، بحرین اور قطر اپنی برآمدات کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ جب آبنائے ہرمز میں خلل آیا تو صرف تیل کی نقل و حمل ہی نہیں رکی تھی؛ ریفائنریوں نے اپنی رفتار کم کر دی، ذخائر استعمال کیے گئے، ہنگامی ذخائر جاری کیے گئے اور خریداروں نے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اب ان تمام اقدامات کو مرحلہ وار واپس لینا ہوگا۔
تو کیا یہ صورتحال تیل کی قلت سے بڑھ کر تیل کی فراوانی میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد خلیج میں پھنسے ہوئے غیر ایرانی خام تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈی میں آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو مزید ایرانی خام تیل بھی مارکیٹ میں واپس آ سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، منڈی بہت جلد تیل کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک ہی وقت میں ضرورت سے زیادہ تیل کی آمد کے مسئلے سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اسی وجہ سے قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بحران سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے کیونکہ تاجر فوری سپلائی کے خدشات سے آگے کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم کم قیمتوں کا مطلب یہ نہیں کہ خطرات ختم ہو گئے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کی بہت سی ریفائنریاں برآمدات کی بحالی سے پہلے ہی اپنی قریبی مدت کی ضروریات پوری کر چکی تھیں۔ اس لیے خلیج سے روانہ ہونے والے کچھ تیل کو فوری خریدار نہیں مل سکیں گے اور ممکن ہے کہ وہ سمندر میں موجود ٹینکروں ہی میں بطور فلوٹنگ اسٹوریج ذخیرہ کر دیا جائے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بھی خبردار کیا ہے کہ مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔ بحری راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا، ٹینکروں کی نقل و حرکت کو معمول پر لانا اور سپلائی چین کو دوبارہ مستحکم کرنا ابھی باقی ہے۔ آئی ای اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحران کے دوران صارفین، کمپنیوں اور حکومتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی، جس کے نتیجے میں تیل کی طلب میں پہلے ہی نمایاں کمی آ چکی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں نرمی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے درآمدی بل، مہنگائی اور ایندھن پر ممکنہ مالی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب بیرونی مالیاتی کھاتے بدستور دباؤ کا شکار ہیں، تیل کی قیمتوں میں عارضی ریلیف بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم اس اطمینان کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل ضرور گئی ہے، لیکن وہ اب بھی دنیا کے حساس ترین جغرافیائی و سیاسی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی نئے حملے، جہاز رانی سے متعلق خدشے یا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت میں تعطل کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں شامل رسک پریمیم دوبارہ تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔
اس پوری صورتحال سے حاصل ہونے والا سبق واضح ہے۔ تیل کی عالمی منڈی خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کر سکتی ہے، مگر یہ عمل تکلیف اور مشکلات کے بغیر ممکن نہیں۔ برآمدات دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور سپلائی بحال ہو رہی ہے، لیکن سرمایہ کاروں اور منڈی کا اعتماد اب بھی نازک ہے۔ بحران شاید شدت کھو رہا ہو، مگر اس کے جھٹکے اب بھی عالمی تیل کی منڈی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔


Comments