ایران اور اسرائیل پر وینس اور روبیو کے مؤقف میں اختلاف، وائٹ ہاؤس کی تردید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انتظامیہ کے تمام اہم عہدیدار ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے ان کے نائب صدر اور وزیر خارجہ کے بیانات، خاص طور پر اسرائیل کے موضوع پر کئی بار ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران کے مجوزہ ابتدائی معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی ناقدین پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ بیروت میں شہری بنیادی ڈھانچے پر اسرائیلی بمباری جس کا مقصد حزب اللہ کو کمزور کرنا تھا امریکہ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اس ہفتے خلیجی ممالک کے دورے پر جانے والے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کا دفاع کیا اور بارہا اسے حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں ایک جائز اقدام قرار دیا۔
جب روبیو سے وینس کی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا، اس کے بجائے اسی ہفتے کے اوائل میں لبنان میں قائم ملیشیا کی جانب سے اسرائیلی چیک پوسٹ پر کیے گئے حملے کا ذکر کیا۔
یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ نے اتحاد پر زور دیا ہے لیکن بعض اوقات مختلف عالمی نظریات سامنے آ رہے ہیں جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک چیلنج ہے جس کا سیاسی اتحاد خارجہ پالیسی کے معاملات پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ یہ ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کی ایک ابتدائی جھلک بھی پیش کرتا ہے کیونکہ روبیو اور وینس دونوں کو 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
منگل کو روبیو نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران خلیجی اتحادیوں سے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز کی درخواست نہیں کریں گے، اس طرح کا امکان ابھی بہت دور کی بات ہے۔ جمعرات کو علاقائی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے حوالے سے فول پروف ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم ایک معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ہم کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس نے دونوں حکام کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلاف کی سختی سے تردید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ یہاں صرف ایک ہی کیمپ ہے، صدر ٹرمپ کا کیمپ اور پوری انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے صدر کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے روبیو اور وینس کے درمیان خارجہ پالیسی پر کسی بھی قسم کے اختلافات کے خیال کو پرانا اور من گھڑت بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری انتظامیہ 100 فیصد صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔
محکمہ خارجہ کے ایک اور ترجمان نے مزید دلیل دی کہ لبنان کے معاملے پر دونوں حکام کے درمیان کوئی اختلاف نہں، انتظامیہ کا مقصد لبنان کی پوری سرزمین پر لبنانی حکومت کی خودمختاری کو بحال کرنا ہے۔


Comments