مارکو روبیو کا خلیجی ممالک کا دورہ: ایران معاہدے پر تحفظات دور کرنے کا مشکل مشن
- تمام 6 خلیجی ممالک امریکہ کے اسٹریٹجک اتحادی ہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اس ہفتے ایک نازک سفارتی مشن کا سامنا ہے جہاں وہ خلیجی عرب رہنماؤں کے سامنے واشنگٹن کے ایران امن معاہدے کا دفاع کریں گے ۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کو دی جانے والی حد سے زیادہ رعایتیں تہران کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں جس سے خطے میں سکیورٹی کا توازن اور تیل کی ترسیل کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
روبیو منگل کومتحدہ عرب امارات میں خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔ وہاں وہ جی سی سی کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ خلیجی بادشاہتوں کا ایک گروپ ہے جس میں سعودی عرب، قطر اور اومان بھی شامل ہیں۔
معاہدے کے مسودے کے جن نکات پر اعتراضات ہیں ان میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر کوئی حد نہ ہونا، 300 ارب ڈالر کا مجوزہ تعمیر نو فنڈ اور ایسی شقیں شامل ہیں جو تہران کے علاقائی اثرورسوخ اور تیل کی اہم شپنگ گزرگاہوں پر اس کے کنٹرول کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
تمام 6 خلیجی ممالک امریکہ کے اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران کسی حد تک واشنگٹن کو لاجسٹک معاونت فراہم کی تھی جو چار ماہ قبل شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی فضائی حملوں سے بھی متاثر ہوئے۔
ان میں سے کچھ ممالک اس عبوری معاہدے پر نجی طور پر مایوسی اور حیرت محسوس کر رہے ہیں جو ایران کے ساتھ امریکی معمول کے تعلقات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
ان ممالک کی رائے امریکی پالیسی سازوں کیلئے اہمیت رکھتی ہے۔ یو اے ای، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی بھی ملک، چاہے معمولی حد تک ہی کیوں نہ ہو، امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرِ ثانی کرے تو اس کا خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
مارک روبیو کے لیے یہ دورہ ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار کو اپنے علاقائی اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہے، لیکن اسے ایسا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر براہِ راست تنقید سے بھی گریز کرنا ہوگا۔


Comments