BR100 Increased By (1.73%)
BR30 Increased By (1.95%)
KSE100 Increased By (1.89%)
KSE30 Increased By (1.95%)
BAFL 60.98 Increased By ▲ 0.84 (1.4%)
BIPL 27.61 Increased By ▲ 0.93 (3.49%)
BOP 36.38 Increased By ▲ 0.65 (1.82%)
CNERGY 8.33 Increased By ▲ 0.05 (0.6%)
DFML 19.66 Increased By ▲ 0.13 (0.67%)
DGKC 217.19 Decreased By ▼ -3.86 (-1.75%)
FABL 97.64 Increased By ▲ 3.05 (3.22%)
FCCL 57.51 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
GGL 23.12 Increased By ▲ 2.09 (9.94%)
HBL 302.50 Increased By ▲ 6.52 (2.2%)
HUBC 230.11 Increased By ▲ 1.35 (0.59%)
HUMNL 11.67 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 28.52 Decreased By ▼ -0.17 (-0.59%)
MLCF 97.67 Decreased By ▼ -0.46 (-0.47%)
OGDC 327.64 Increased By ▲ 3.01 (0.93%)
PAEL 43.56 Increased By ▲ 0.47 (1.09%)
PIBTL 18.35 Increased By ▲ 0.39 (2.17%)
PIOC 287.77 Decreased By ▼ -4.53 (-1.55%)
PPL 238.89 Increased By ▲ 6.11 (2.62%)
PRL 36.27 Increased By ▲ 0.58 (1.63%)
SNGP 112.94 Increased By ▲ 10.27 (10%)
SSGC 30.43 Increased By ▲ 2.77 (10.01%)
TELE 9.54 Increased By ▲ 0.35 (3.81%)
TPLP 11.27 Decreased By ▼ -0.10 (-0.88%)
TRG 70.42 Increased By ▲ 1.57 (2.28%)
UNITY 11.59 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)

اگرچہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ کئی سالوں کی معاشی استحکام کے بعد اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے ایک ترقی دوست پیکیج کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاہم وزارت خزانہ کے اپنے فِسکل رسکس کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی معاشی پیش گوئیاں متعدد منفی خطرات کیلئے حساس ہیں اور ترقی کا یہ بیانیہ مختلف مفروضات کے مستحکم رہنے پر منحصر ہے۔

14 جون کو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس دستاویز میں کئی وسیع خطرات کی نشاندہی کی گئی جن میں میکرو اکنامک اور ریونیو پر دباؤ، قرضوں کی ادائیگی، سرکاری ملکیتی ادارے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر امور شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ عوامل آئندہ سال کے دوران مالی خسارے کو بڑھا سکتے ہیں اور بجٹ کے اہم مفروضات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

وزارت خزانہ کی نشاندہی کردہ فوری ترین کمزوریوں میں سے ایک یہ امکان ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال بجٹ کی مفروضاتی بنیادوں اور مجموعی معیشت دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

صارفین کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مکمل اثرات سے بچانے کے لیے حکومت کو ممکنہ طور پر توانائی سبسڈیز میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات کو مکمل طور پر منتقل نہ کرنے کی صورت میں پٹرولیم لیوی کی آمدن کا ایک حصہ بھی قربان کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کا مالیاتی بوجھ نمایاں ہو سکتا ہے: اگر تیل کی قیمتوں میں 40 ڈالر فی بیرل اضافہ ہو تو مالی خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ توانائی کی زیادہ قیمتیں کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کریں گی، گھریلو قوتِ خرید کو کم کریں گی اور معاشی سرگرمیوں کو سست کریں گی جس کے نتیجے میں ترقی کی رفتار کم ہونے اور ٹیکس وصولیوں میں کمی کا خدشہ ہے۔

حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو میں ایک فیصد پوائنٹ کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باعث محصولات کو کم کر سکتی ہے جبکہ اخراجاتی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے، خاص طور پر سماجی تحفظ کے نظام پر جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر مالی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 0.2 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ ساتھ ہی افراطِ زر کے دباؤ اور شرح مبادلہ میں کمی بھی سرکاری مالیات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ اس امید کو جنم دیتا ہے کہ تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات محدود رہ سکتے ہیں، تاہم خطے کی حالیہ غیر مستحکم تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منفی صورتحال کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے بیان کردہ بیرونی عوامل کے علاوہ اندرونی سطح پر بھی اہم کمزوریاں موجود ہیں۔ محصولات کی وصولی کم ٹیکس لچک ، غیر ٹیکس آمدن میں توقع سے کم کارکردگی اور ٹیکس گیپ کو کم کرنے میں مسلسل ساختی رکاوٹوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ یہ مسائل ایک ایسے ٹیکس نظام کے ساتھ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں جس کی بنیاد پہلے ہی محدود ہے اور بجٹ میں اس میں خاطر خواہ توسیع کے آثار بھی کم نظر آتے ہیں۔

اس کے پیش نظر اگر ٹیکس آمدن کی شرح نمو بجٹ میں پیش گوئی سے صرف 10 فیصد کم رہ جائے تو اس سے آمدن میں تقریباً جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر کمی واقع ہوسکتی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی بھی ایک اہم کمزور پہلو ہے کیونکہ مالیاتی نتائج شرحِ سود میں تبدیلی، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور ری فنانسنگ کی شرائط سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی یا بیرونی قرضوں کی لاگت میں کسی بھی سختی اور قلیل مدتی مالیاتی ذرائع پر زیادہ انحصار سودی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے اور مالی خسارے پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملکیتی ادارے بھی اضافی دباؤ کا باعث ہیں جہاں کمزور منافع کی ادائیگیاں اور خساروں یا لیکویڈیٹی ضروریات کے لیے حکومت کی ممکنہ معاونت مالی پوزیشن پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔

موسمیاتی اور آفات سے متعلق خطرات کچھ مشکل توازن کا تقاضا کرتے ہیں۔ آر سی پی 2.6’ سے ہم آہنگ تخفیف کا راستہ یعنی کم اخراج کا ایک ایسا منظر نامہ جو گرین ہاؤس گیسوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور جارحانہ اقدامات کا متقاضی ہے، موافقت کے اقدامات پر زیادہ ابتدائی اخراجات کا متقاضی ہے۔ اگرچہ یہ طویل مدتی لچک کو مضبوط کرتا ہے لیکن اس سے مالیاتی خسارہ بڑھنے کی صورت میں فوری بجٹ کا بوجھ بھی پڑتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ اخراج کا راستہ ابتدائی طور پر کم مہنگا معلوم ہو سکتا ہے لیکن یہ زیادہ کثرت سے پیش آنے والے اور شدید موسمیاتی جھٹکوں کے ذریعے طویل مدتی مالیاتی خطرات کو بڑھاتا ہے۔ قدرتی آفات بدستور سب سے زیادہ دباؤ ڈالنے والے عوامل میں شامل ہیں جن میں ایک اوسط درجے کا واقعہ بھی مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے تقریباً 1.5 فیصد تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مجموعی طور پر مذکورہ بالا خطرات کی وسعت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ بجٹ کا استحکام مفروضوں کے ایک ایسے نازک توازن پر قائم ہے جہاں معمولی سے جھٹکے بھی مالیاتی حدود کا امتحان لے سکتے ہیں۔ ان خطرات کا تدارک کرنے کے لیے نظم و ضبط پر مبنی پالیسیوں پر عمل درآمد، ٹیکس آمدنی کو بڑھانے کے قابلِ اعتبار اقدامات اور غیر یقینی صورتحال کے خلاف مالیاتی بفرز بنانے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف