جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو چکے ، ٹرمپ
- امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعہ کے روز جنیوا میں ایک رسمی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیج میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اس کی تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ انہوں نے یہ بیان فرانس میں جی-7 اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے کے بعد دیا۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعہ کے روز جنیوا میں ایک رسمی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر گر گئیں اور مارچ کے بعد کی کم ترین سطح تک پہنچ گئیں، کیونکہ جنگ کے باعث عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔
معاہدے کو اس تنازع کے خاتمے کی جانب سب سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اب تک 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔ اس جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا۔
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق معاہدے کے تحت ایران کو اقتصادی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں، جن میں پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور 300 ارب ڈالر پر مشتمل تعمیر نو فنڈ شامل ہے، جو خلیجی ممالک کے ذریعے فراہم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنا ہوگی اور خطے میں سرگرم پراکسی گروپس جیسے حزب اللہ سے تعلق ختم کرنا ہوگا۔ تفصیلات آئندہ دو دن میں جاری کی جائیں گی۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان کے جنوبی حصے سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائے گا اور حزب اللہ کے حملوں کا جواب دینے کا حق برقرار رکھے گا۔ اسرائیلی اور لبنانی ذرائع کے مطابق اگرچہ کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن مکمل جنگ بندی ابھی تک نہیں ہوئی۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملے میں جنوبی لبنان میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ ایران نے فوری طور پر اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے معاہدے کو “اسرائیل کے لیے نقصان دہ” قرار دیا ہے۔


Comments