ایران-امریکا جنگ بندی کے بعد اپریل میں جو غیر یقینی سی خاموشی قائم ہوئی تھی، اور جس میں لبنان میں بھی لڑائی روکنے کا معاہدہ شامل تھا، وہ ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتحال موجودہ بحران کے مرکز میں موجود ایک بنیادی تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن اور تہران کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تیزی سے دلچسپی لے رہے ہیں، لیکن دوسری طرف اسرائیل مسلسل ایک ایسی فوجی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے جو وسیع تر علاقائی امن کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔ بیروت کے جنوبی مضافات پر حالیہ اسرائیلی حملہ اسی خطرناک کشیدگی میں اضافہ ہے۔
یہ حملہ لبنان کے دارالحکومت پر اس وقت کیا گیا جب واشنگٹن نے لبنان میں جنگ بندی کے معاہدوں میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ اس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو بتدریج بڑھا رہا ہے، حالانکہ وسیع تر جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت اس سے وابستگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تہران نے ان اقدامات کو بلاشبہ ایک براہ راست چیلنج کے طور پر دیکھا ہے، جو اس نازک علاقائی سمجھوتے کے خلاف ہے جس نے بڑے پیمانے پر جنگ کو روکے رکھا ہے۔
ایران کا اتوار کو شمالی اسرائیل پر میزائل حملہ، اگرچہ دانستہ طور پر اس انداز میں کیا گیا کہ جانی نقصان نہ ہو، ایک واضح سیاسی پیغام تھا۔ اس حملے کو انتباہ قرار دے کر تہران نے تحمل اور عزم دونوں کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔ ایرانی قیادت بظاہر ایک مکمل جنگ سے بچنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ اسرائیل کی بار بار کی کارروائیوں کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گی۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ محدود اور حساب شدہ ردعمل بھی جلد ہی اس کے قابو سے باہر ہو سکتا ہے جس نے اسے شروع کیا ہو۔
خاص طور پر تشویشناک بات اس بحران کا بڑھتا ہوا جغرافیائی پھیلاؤ ہے۔ یمن میں حوثیوں کی شمولیت اور بحیرہ احمر میں بحری راستوں کو متاثر کرنے کی ان کی دھمکی اس بات کا خدشہ بڑھا رہی ہے کہ خطہ ایک بار پھر وسیع علاقائی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ جو بحران ابتدا میں محدود جھڑپوں تک تھا، وہ اب بتدریج ایک کثیرالجہتی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے جو پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔
اس پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل پر غیر معمولی اور کھلی تنقید قابلِ توجہ ہے۔ ان کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن میں اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جاتی ہے کہ ایسے اقدامات ایران کے ساتھ مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ دونوں فریق بظاہر ایک اہم معاہدے کے قریب کھڑے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایرانی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور اس لیے مزید جوابی کارروائی کی ضرورت نہیں، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
درحقیقت موجودہ بحران کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران اس وقت مذاکرات کو بچانے کی خواہش میں پہلے سے کہیں زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں کو تصادم سے نکلنے کا راستہ درکار ہے اور دونوں نہیں چاہتے کہ کسی دوسرے محاذ پر ہونے والی پیش رفت ان کے ممکنہ معاہدے کو تباہ کر دے۔ یہ ابھرتی ہوئی ہم آہنگی، چاہے محدود اور مفاداتی ہی کیوں نہ ہو، اسرائیل کے اس دیرینہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی کہ امریکا-ایران مفاہمت اس کے علاقائی اثر و رسوخ اور طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔ اسی لیے بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے پاس یہ ترغیب موجود ہے کہ وہ ان سفارتی کوششوں کو چیلنج کرے جو اس کے اسٹریٹجک حساب کتاب کے خلاف ہوں۔
آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر جاری مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں تو یہ وسیع علاقائی کشیدگی میں کمی کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر یہ ناکام ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جوابی کارروائیوں اور انتقامی حملوں کے اسی پرانے چکر میں پھنس سکتا ہے۔ تمام فریقین کے لیے بنیادی ضرورت واضح ہونی چاہیے: سفارت کاری کو اس تنازع کا ضمنی نقصان نہیں بننا چاہیے جس نے پہلے ہی بہت سی جانیں لی ہیں اور بہت سے معاشروں کو غیر مستحکم کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments