ایران پر نئے امریکی حملے، خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1 فیصد اضافہ
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات امریکا کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملے اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی بتائی جا رہی ہیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 68 سینٹ یا 0.8 فیصد بڑھ کر 88.97 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل تقریباً سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوا تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 29 مئی کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ اس کی وجہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں کا رک جانا تھا، جس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے زور دیا تھا۔
تاہم صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے حملے کیے۔ یہ کارروائی امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں کارروائی کی جائے گی۔
ادھر تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف جاری مہم امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیوں کے باعث بھی تیل کی منڈیوں میں بے یقینی برقرار ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این اجی) کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں 9.12 ملین بیرل کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پٹرول کے ذخائر بھی 1.19 ملین بیرل کم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے کمی سے عالمی سپلائی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔


Comments