شی جن پنگ کا دورہ شمالی کوریا، کم جونگ اُن کا طاقت اور خود اعتمادی کا اظہار
- شی جن پنگ کا یہ دو روزہ دورہ، جو چین کے ہمسایہ ملک کا ان کا سات سال بعد پہلا دورہ ہے
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے پیر کے روز پیانگ یانگ میں چین کے صدر شی جن پنگ کا خیرمقدم کیا، جبکہ وہ روس کے ساتھ مضبوط اتحاد، جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور امریکا سے محدود رابطے کی خواہش کے باعث خود کو نسبتاً مضبوط پوزیشن میں سمجھ رہے ہیں۔
شی جن پنگ کا یہ دو روزہ دورہ، جو چین کے ہمسایہ ملک کا ان کا سات سال بعد پہلا دورہ ہے، پیانگ یانگ کو دوبارہ بیجنگ کے اثر و رسوخ کے دائرے میں لانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال شی جن پنگ نے بیجنگ میں ایک بڑی فوجی پریڈ کے دوران کم جونگ اُن سمیت متعدد رہنماؤں کی میزبانی کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسافر ٹرین اور فضائی سروسز بھی بحال ہوئی ہیں۔
یہ سربراہی ملاقات 2019 کے بعد شی جن پنگ کے پہلے دورے سے مختلف ہے، جب کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جوہری تخفیف اور پابندیوں میں نرمی پر مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس کے ساتھ فوجی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور یوکرین جنگ میں روس کی حمایت میں فوجی دستے بھی بھیجے ہیں۔
پیانگ یانگ نے شی جن پنگ کے دورے سے قبل اپنی عسکری طاقت کے اظہار کے طور پر 10 ہزار ٹن وزنی جنگی بحری جہاز کے منصوبے کا اعلان کیا اور خود کو جوہری ریاست کے طور پر دوبارہ واضح کیا۔ ماہرین کے مطابق کم جونگ اُن کی حکومت معاشی تعاون کے لیے چین کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ روسی تعاون نے اسے مزید خود اعتمادی دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سیاحت کو اہم شعبہ بنانے اور رہائشی منصوبے بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ کووڈ 19 کے بعد سرحدی پابندیوں کے باعث غیر ملکی سیاحت تقریباً ختم ہو گئی تھی، جو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن جوہری پروگرام میں کسی بڑی رعایت کے لیے تیار نہیں، بلکہ اس میں مزید توسیع کے ارادے رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ فی الحال خطے میں مکمل عدم استحکام نہ ہونے تک پیانگ یانگ کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے سخت اقدام نہیں کرے گا۔


Comments