حکومت نے قطر سے ایل این جی کے تین اور اسپاٹ مارکیٹ سے ایک کارگو حاصل کر لیا
- قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت آنے والی یہ کھیپیں کاسٹ اینڈ فریٹ بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، ترجمان
حکومت نے موسم گرما میں بجلی کے شعبے اور دیگر اقتصادی شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کے تین کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ ایک اضافی کارگو اسپاٹ مارکیٹ سے خریدا گیا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بدھ کے روز کراچی کی پورٹ قاسم پر 6 اور 7 جون 2026 کی ڈیلیوری ونڈو کے لیے ڈیلیورڈ ایکس شپ بنیاد پر ایک ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، ترجمان، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے ایک خصوصی نشست کی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ مہنگی درآمدی ایل این جی کے متبادل کے طور پر مقامی گیس بجلی گھروں کو صرف 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی بھاری سبسڈی والی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی معمول کی قیمت 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ اس قیمت کے نظام کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک سمری تیار کی جا رہی ہے، جسے منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے بتایا کہ پاور ڈویژن کی درخواست پر حکومت نے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل لاگت کی وصولی کی بنیاد پر ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت آنے والی یہ کھیپیں کاسٹ اینڈ فریٹ بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اب بھی انتہائی کم لاگت اور مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے بعد حکومت نے کامیابی کے ساتھ یومیہ تقریباً 400 ملین مکعب فٹ گیس کی پیداوار بحال کر لی ہے۔ اس سے قبل او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور ماری پیٹرولیم سمیت بڑی تلاش و پیداوار کمپنیوں کو درپیش تکنیکی مسائل اور سکیورٹی خدشات کے باعث گیس کی فراہمی محدود ہو گئی تھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments