BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
دنیا

امریکا سے معاہدے کا مسودہ منظور ہوا تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال اور ناکہ بندی ختم ہو جائے گی،ایران

  • امریکہ وایران ایم او یو کے مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بحری جہاز رانی کو بحال کرے اور امریکہ پاکستان کی ثالثی میں اپنی افواج کو واپس بلا لے
شائع اپ ڈیٹ

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کو امریکا کے ساتھ تنازع کے خاتمے سے متعلق ایک ابتدائی اور غیر رسمی فریم ورک پر مشتمل مفاہمتی مسودہ موصول ہوا ہے۔

اس فریم ورک کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح تک بحال کرے گا، جبکہ امریکا ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی کم کرے گا اور مبینہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ اس مسودے میں فوجی جہاز شامل نہیں ہیں، اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے انتظام کو ایران، عمان کے تعاون سے سنبھالے گا۔ تاہم واضح کیا گیا کہ یہ فریم ورک ابھی حتمی نہیں اور تہران کسی بھی اقدام سے پہلے “ٹھوس تصدیق” کا مطالبہ کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔

یہ ابھرتا ہوا امریکا-ایران مفاہمتی مسودہ ان بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ ہے جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد شروع کیے گئے، جس میں پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد شروع ہوئی، جس میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے سے خلیج میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی اور امریکا بھی اس میں ملوث ہوا، جس سے وسیع علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے۔

Comments

200 حروف