BR100 Increased By (0.14%)
BR30 Decreased By (-0.17%)
KSE100 Increased By (0.13%)
KSE30 Increased By (0.14%)
BAFL 57.01 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.46 Increased By ▲ 0.11 (0.36%)
CNERGY 13.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 16.80 Increased By ▲ 0.90 (5.66%)
DGKC 192.72 Increased By ▲ 0.27 (0.14%)
FABL 94.45 Increased By ▲ 0.31 (0.33%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.63 Decreased By ▼ -0.09 (-0.61%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 306.99 Increased By ▲ 0.89 (0.29%)
HUBC 201.70 Increased By ▲ 0.28 (0.14%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.50 Increased By ▲ 0.34 (0.36%)
OGDC 315.60 Decreased By ▼ -1.13 (-0.36%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.91 Increased By ▲ 0.23 (1.57%)
PIOC 243.68 Increased By ▲ 0.47 (0.19%)
PPL 224.70 Decreased By ▼ -2.21 (-0.97%)
PRL 93.45 Increased By ▲ 0.43 (0.46%)
SNGP 91.83 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
SSGC 23.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.90 Increased By ▲ 0.34 (0.6%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

بحران کے باوجود تیل مارکیٹ بے خوف

  • تیل کی مارکیٹ ایسے رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے کمرے میں کھڑا ہو اور اصرار کر رہا ہو کہ ممکن ہے فائر الارم ہی خراب ہو۔
شائع اپ ڈیٹ

تیل کی مارکیٹ ایسے رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے کمرے میں کھڑا ہو اور اصرار کر رہا ہو کہ ممکن ہے فائر الارم ہی خراب ہو۔

مشرق وسطیٰ کے تنازع کو شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں، آبنائے ہرمز عملی طور پر پابندیوں کا شکار ہو چکی ہے اور ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں، اس کے باوجود خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر تو ہیں مگر وہ 150 ڈالر فی بیرل سے زائد کے اس خوفناک بحران تک نہیں پہنچیں جس کا پہلے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

برینٹ آئل کی قیمت تنازع کے آغاز میں مختصر طور پر 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل سپلائی خدشات کے باوجود یہ ایک غیر معمولی طور پر پرسکون دائرے میں آ گئی ہے۔ مارکیٹ کا یہ سکون اب اصل فزیکل تنگی سے واضح طور پر الگ دکھائی دیتا ہے۔

یہی الگ رویہ اب تیل کی مارکیٹ کی بنیادی پہچان بن چکا ہے۔

ایک طرف پیپر مارکیٹ ہے جو اب بھی اس یقین پر قائم ہے کہ سفارت کاری، اسٹریٹجک ذخائر سے ریلیز اور متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔ دوسری طرف حقیقی فزیکل مارکیٹ ہے جہاں پروڈیوسرز، ریفائنرز اور ٹینکر آپریٹرز خبردار کر رہے ہیں کہ پورا نظام ہفتہ وار بنیاد پر مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔

سعودی آرامکو کے چیف امین ناصر نے اس مخمصے کو اس ہفتے بہترین انداز میں بیان کیا جب انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے آغاز سے اب تک دنیا تقریباً ایک ارب بیرل مجموعی سپلائی کھو چکی ہے، جبکہ ہر ہفتے مزید 10 کروڑ بیرل اس وقت غائب ہو رہے ہیں جب تک ہرمز بند ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ آبی گزرگاہ فوراً بھی کھل جائے تو مارکیٹ کو معمول پر آنے میں مہینے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ ذخائر پہلے ہی بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں اور لاجسٹکس چین شدید متاثر ہے۔

اس کے باوجود خوف اور گھبراہٹ واضح طور پر غائب ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ چین ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ہے اور اس وقت عالمی طلب کا سب سے اہم سوئنگ فیکٹر بھی ہے۔ بلند قیمتوں اور کمزور صنعتی سرگرمی کے باعث چین کی درآمدات تیزی سے کم ہوئی ہیں۔ ریفائنرز نے خریداری کم کر دی ہے اور زیادہ تر مقامی ذخائر پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ اس سست روی نے عالمی مارکیٹ کے لیے ایک جھٹکا جذب کرنے والے کا کردار ادا کیا ہے، جس نے جزوی طور پر سپلائی کی کمی کو متوازن رکھا ہے۔

اگر حالات مختلف ہوتے تو دنیا کے سب سے اہم تیل گزرگاہ کی تقریباً بندش یقیناً بڑے پیمانے پر طلب میں کمی کو جنم دیتی۔ لیکن اس وقت عالمی معیشت توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی طلب میں نمایاں کمی عام طور پر اس وقت شروع ہوتی ہے جب تیل کی قیمتیں 130 سے 140 ڈالر فی بیرل سے اوپر مسلسل رہیں۔ موجودہ قیمتیں اگرچہ دباؤ ڈال رہی ہیں لیکن ابھی اتنی تباہ کن نہیں کہ صارفین گاڑیاں چلانا بند کر دیں یا صنعتیں بند ہو جائیں۔

اسی دوران حکومتوں نے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز کو استعمال کرتے ہوئے خوف و ہراس کو کم کرنے اور سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان ریلیزز اور متبادل سپلائی راستوں نے وقتی طور پر وقت خریدا ہے، لیکن بنیادی خسارہ ختم نہیں کیا۔ حقیقی توازن مزید سخت ہو رہا ہے، فلوٹنگ اسٹوریج کم ہو رہی ہے اور ریفائنری اسٹاکس بھی سکڑ رہے ہیں۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں مارکیٹ کی بے فکری کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

آج کی مارکیٹ دو متضاد بیانیوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے اور اضافی پیداواری صلاحیت، ریزرو ریلیزز اور طلب میں کمی بڑے توانائی بحران کو روک لیں گے۔ دوسرا یہ کہ دنیا ایک ایسے سپلائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے اثرات ٹل تو رہے ہیں مگر ختم نہیں ہو رہے۔

فی الحال قیمتوں کے تعین میں پہلا بیانیہ غالب ہے۔ لیکن جتنا زیادہ یہ تعطل جاری رہے گا، اتنا ہی زیادہ خطرہ ہے کہ تیل کی مارکیٹیں آخرکار امید پر نہیں بلکہ حقیقت اور فزکس پر ٹریڈ کرنا شروع کر دیں گی۔

Comments

200 حروف