آبنائے ہرمز میں سی ایم اے سی جی ایم کے جہاز پر حملہ، امریکا اور ایران کشیدگی سے بحری آمدورفت معطل
- فرانسیسی شپنگ گروپ سی ایم اے سی جی ایم نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ سان انتونیو نامی جہاز کے زخمی عملے کو نکال کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے
فرانسیسی شپنگ گروپ سی ایم اے سی جی ایم کے مطابق اس کا ایک کنٹینر جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران حملے کا نشانہ بنا ہے، جس کے نتیجے میں عملے کے افراد زخمی ہوئے اور جہاز کو نقصان پہنچا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث اس اہم تیل اور تجارتی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا اور جنگ کے آغاز کے بعد جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں میں سے ایک ہے، جس کے باعث سیکڑوں جہاز پھنس گئے ہیں اور عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد متاثر ہوا ہے۔
امریکہ نے پیر کے روز آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے ایک آپریشن شروع کیا تھا، جس کے تحت دو امریکی پرچم بردار جہازوں کو خلیج سے نکلنے میں مدد دی گئی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ وسیع تر معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے پیش نظر اس اقدام کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت عملاً معطل رہی، اور ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس عرصے میں کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ سے نہیں گزرا۔
ادھر تہران نے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے اس حصے کو وسیع دکھایا گیا ہے جسے وہ اپنے کنٹرول میں قرار دیتا ہے۔
زخمی عملے کو طبی امداد
سی ایم اے سی جی ایم نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ سان انتونیو نامی جہاز کے زخمی عملے کو نکال کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم کمپنی نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے مطابق اس واقعے میں آٹھ اہلکار زخمی ہوئے، اور یہ جنگ کے آغاز کے بعد اس نوعیت کا 32 واں واقعہ ہے۔
فرانسیسی حکومت کی ترجمان مود بریژوں نے کہا کہ فرانس کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، اور عملے کا تعلق فلپائن سے ہے۔
ایک بحری سلامتی ذریعے کے مطابق جہاز کو عمان کے قریب رات کے وقت گزرنے کی کوشش کے دوران ایک ایرانی پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ جہاز امریکہ کے اس سکیورٹی آپریشن کے تحت سفر کر رہا تھا یا نہیں، جسے بعد میں عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
ایران سے رابطے کے بغیر سفر خطرناک
شپنگ ایسوسی ایشن بی آئی ایم سی او( بیمکو) کے چیف سیفٹی اینڈ سکیورٹی آفیسر جیکب لارسن نے کہا کہ اگرچہ ”پروجیکٹ فریڈم“ کے دوران کچھ جہاز محفوظ طریقے سے نکلنے میں کامیاب رہے، تاہم یہ واضح تھا کہ ایران سے پیشگی رابطے کے بغیر اس راستے سے گزرنا شدید خطرات کا باعث ہے۔
دنیا کی تیسری بڑی کنٹینر شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کے مطابق جنگ کے آغاز پر اس کے 14 جہاز خلیج میں پھنس گئے تھے۔ ان میں سے ایک جہازسی ایم اے سی جی ایم کریبی اپریل کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار جہاز سان انتونیو کی منزل بھارت کی بندرگاہ مندرا درج تھی۔


Comments