کیپٹل ایڈیکیسی فریم ورک کے تحت فنانسنگ، حکومت کا ایشیائی بینک سے تعاون بڑھانے کا مطالبہ
- بینک کو اپنی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے، نور احمد
ایشیا ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے 59ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ کیپٹل ایڈیکیسی فریم ورک کے تحت ملکوں کی ایکسپوژر حدوں میں سختی ترقی پذیر اور زیادہ ضرورت مند معیشتوں کے لیے مالی معاونت کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور عارضی متبادل گورنر نور احمد نے کہا کہ بینک کو اپنی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے، نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے اور فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ ترقیاتی اہداف متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب اقتصادی امور کے وزیر احد خان چیمہ اور سیکرٹری محمد ہمایوں کریم وزیراعظم کی کفایت شعاری پالیسی کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔
نور احمد کے مطابق 2023 کے کیپٹل ایڈیکیسی فریم ورک جائزے سے آئندہ دس سال میں 100 ارب ڈالر اضافی قرضہ دینے کی گنجائش پیدا ہوئی، تاہم اس کے ساتھ متعارف کروائی گئی ملکوں کی ایکسپوژر حدوں نے بینک کے قرض دینے کے انداز کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حدیں زیادہ تر خودمختار کریڈٹ ریٹنگز پر مبنی ہیں، جس میں آبادی، معیشت کے حجم اور غربت جیسے عوامل کو کم اہمیت دی گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کئی ترقی پذیر رکن ممالک اب اپنی حدوں کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس سے ان ممالک میں بینک کی مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے تجویز دی کہ جاری جائزے میں ان حدوں کو مناسب حد تک بڑھایا جائے اور ترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے کی معاونت کو وسعت دی جائے۔
اجلاس کے موضوع ترقی کے دوراہے: ایک مربوط مستقبل کی جانب پیش رفت” کا حوالہ دیتے ہوئے نور احمد نے کہا کہ خطہ اس وقت پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی، تجارت اور خوراک کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے مہنگائی اور مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک جیسے اداروں کی بروقت اور مؤثر مالی معاونت ناگزیر ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر معاشی استحکام کے لیے جاری اصلاحات، ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی شعبے کی کارکردگی میں اضافہ اور نجکاری پروگرام میں پیش رفت کو بھی اجاگر کیا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments