BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.49%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.1%)
BIPL 28.65 Increased By ▲ 0.62 (2.21%)
BOP 36.90 Increased By ▲ 0.13 (0.35%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.66 Increased By ▲ 0.73 (3.66%)
DGKC 227.20 Increased By ▲ 0.27 (0.12%)
FABL 101.75 Increased By ▲ 1.57 (1.57%)
FCCL 58.70 Increased By ▲ 0.09 (0.15%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 26.40 Increased By ▲ 1.20 (4.76%)
HBL 306.00 Increased By ▲ 0.36 (0.12%)
HUBC 233.72 Increased By ▲ 1.17 (0.5%)
HUMNL 11.31 Decreased By ▼ -0.11 (-0.96%)
KEL 8.26 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
LOTCHEM 29.46 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
MLCF 107.69 Decreased By ▼ -0.60 (-0.55%)
OGDC 345.69 Increased By ▲ 6.59 (1.94%)
PAEL 45.54 Increased By ▲ 0.19 (0.42%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.64 Increased By ▲ 1.07 (0.38%)
PPL 248.61 Increased By ▲ 2.66 (1.08%)
PRL 36.30 Increased By ▲ 0.22 (0.61%)
SNGP 119.00 Increased By ▲ 0.30 (0.25%)
SSGC 31.43 Decreased By ▼ -0.24 (-0.76%)
TELE 9.23 Decreased By ▼ -0.04 (-0.43%)
TPLP 11.60 Increased By ▲ 0.37 (3.29%)
TRG 67.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.65%)
UNITY 10.91 Decreased By ▼ -0.10 (-0.91%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

پاکستان نے چین اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے تجارتی راہداریوں کو فعال کر دیا

  • اسلام آباد اب افغانستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) تک مرکزی ٹرانزٹ گیٹ وے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، حکام
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے چین اور ایران کے ذریعے متبادل مغربی تجارتی راہداریوں کو مؤثر طریقے سے فعال کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی کنیکٹیویٹی حکمتِ عملی میں ایک بڑی ساختی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ ذرائع کے مطابق اب افغانستان پر انحصار کرنے والے روٹس کی بجائے زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد راستوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق اسلام آباد اب افغانستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) تک مرکزی ٹرانزٹ گیٹ وے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات، بارڈر بندشیں اور زیادہ لاگت ہیں۔ اس کے بجائے چین اور ایران کے ذریعے دو متوازی کوریڈورز کو فعال کیا جا رہا ہے۔

چین کے راستے پاکستان خنجراب پاس کے ذریعے کرغزستان، قازقستان اور تاجکستان تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستے نہ صرف مختصر ہیں بلکہ زیادہ محفوظ اور قابلِ پیش گوئی بھی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے ذریعے گبد–رمدان بارڈر کراسنگ کی فعالیت نے ترکمانستان اور ازبکستان تک نیا تجارتی راستہ کھول دیا ہے۔ ایران روٹ کے ذریعے پہلی کھیپ تاشقند بھی بھیجی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ فاصلہ کچھ زیادہ ہے، لیکن کم انشورنس لاگت اور غیر رسمی رکاوٹوں کی عدم موجودگی اسے زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

اس کے مقابلے میں افغان راستوں کو موجودہ حالات میں غیر مستحکم اور کم قابلِ اعتماد قرار دیا جا رہا ہے، جہاں بار بار بندشیں اور سکیورٹی مسائل تجارت کو متاثر کرتے ہیں۔

حکومتی منصوبوں میں ایم ایل-ون ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن، سی پیک فیز ٹو کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور گوادر پورٹ کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی مرکز کے طور پر فعال کرنا شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان کو ایک ٹرمینل جغرافیہ سے ٹرانزٹ اکانومی کی طرف لے جا رہی ہے، جس سے خطے میں اس کا اسٹریٹجک کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف