پاکستان نے چین اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے تجارتی راہداریوں کو فعال کر دیا
- اسلام آباد اب افغانستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) تک مرکزی ٹرانزٹ گیٹ وے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، حکام
پاکستان نے چین اور ایران کے ذریعے متبادل مغربی تجارتی راہداریوں کو مؤثر طریقے سے فعال کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی کنیکٹیویٹی حکمتِ عملی میں ایک بڑی ساختی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ ذرائع کے مطابق اب افغانستان پر انحصار کرنے والے روٹس کی بجائے زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد راستوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد اب افغانستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) تک مرکزی ٹرانزٹ گیٹ وے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات، بارڈر بندشیں اور زیادہ لاگت ہیں۔ اس کے بجائے چین اور ایران کے ذریعے دو متوازی کوریڈورز کو فعال کیا جا رہا ہے۔
چین کے راستے پاکستان خنجراب پاس کے ذریعے کرغزستان، قازقستان اور تاجکستان تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستے نہ صرف مختصر ہیں بلکہ زیادہ محفوظ اور قابلِ پیش گوئی بھی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے ذریعے گبد–رمدان بارڈر کراسنگ کی فعالیت نے ترکمانستان اور ازبکستان تک نیا تجارتی راستہ کھول دیا ہے۔ ایران روٹ کے ذریعے پہلی کھیپ تاشقند بھی بھیجی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ فاصلہ کچھ زیادہ ہے، لیکن کم انشورنس لاگت اور غیر رسمی رکاوٹوں کی عدم موجودگی اسے زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
اس کے مقابلے میں افغان راستوں کو موجودہ حالات میں غیر مستحکم اور کم قابلِ اعتماد قرار دیا جا رہا ہے، جہاں بار بار بندشیں اور سکیورٹی مسائل تجارت کو متاثر کرتے ہیں۔
حکومتی منصوبوں میں ایم ایل-ون ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن، سی پیک فیز ٹو کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور گوادر پورٹ کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی مرکز کے طور پر فعال کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان کو ایک ٹرمینل جغرافیہ سے ٹرانزٹ اکانومی کی طرف لے جا رہی ہے، جس سے خطے میں اس کا اسٹریٹجک کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments