علاقائی فضائی بحران میں پاکستانی کنٹرولرز کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف
- عالمی فضائی دباؤ کے باوجود پاکستانی کنٹرولرز نے سیفٹی معیار برقرار رکھا، ایگزیکٹو نائب صدرآئی فیٹکا ایشیا
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ایشنز (آئی فیٹکا) نے خطے کی فضائی حدود کو متاثر کرنے والی جیو پولیٹیکل صورتحال کے دوران پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز (اے ٹی سی او ایس) کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا ہے۔
ایک پریس ریلیز میں آئی فیٹکا کی ایشیا پیسیفک ریجن کی ایگزیکٹو نائب صدر چیریل چن نے پاکستانی کنٹرولرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ایک اہم راہداری کے طور پر پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن کے باعث فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں پڑوسی فضائی حدود سے موڑ دی جانے والی پروازیں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے غیر معمولی دباؤ اور غیر شیڈول شدہ پروازوں کے بڑے حجم کو سنبھالا ہے، جبکہ مخصوص سیکٹرز میں ٹریفک کی سطح میں غیر معمولی اضافے کے باوجود سیفٹی اور کارکردگی کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا گیا۔
چیریل چن کا مزید کہنا تھا کہ آئی فیٹکا اس بات کو سمجھتی ہے کہ یہ تمام آپریشنز مسلسل دباؤ، طویل ڈیوٹی کے اوقات اور چھٹیوں کی کمی کے باوجود انجام دیے گئے، جو آپریشنل تسلسل اور عالمی ہوا بازی کی حفاظت کے لیے پاکستانی عملے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئی فیٹکا نے ان غیر معمولی کوششوں پر پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرول ورک فورس اور متعلقہ وزارت کے تعاون کی بھی تعریف کی ہے۔
واضح رہے کہ فروری سے ایران میں جنگ کے باعث دبئی، دوحہ اور ابوظہبی جیسے اہم مشرقِ وسطیٰ کے مراکز کی بندش کی وجہ سے عالمی فضائی سفر بری طرح متاثر ہے اور ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔


Comments