ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کی تیاری، ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے
- اقدام کا مقصد ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانا اور امریکی مفادات کی حفاظت کرنا بتایا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت ایران کے ساتھ تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی تاہم صدر نے اگلے ہفتے تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے کا بھی عندیہ دیا۔
حکم نامے کے مطابق امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر یہ محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں جو کسی ایسے ملک کی مصنوعات ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایران سے کوئی سامان یا خدمات خریدتا، درآمد کرتا ہے یا حاصل کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانا اور امریکی مفادات کی حفاظت کرنا بتایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ آرڈر میں وضاحت کی گئی ہے کہ شرح کا تعین سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کریں گے اور یہ مثال کے طور پر 25 فیصد ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے روس، جرمنی، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کی ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق، ایران کی ایک چوتھائی سے زائد تجارت چین کے ساتھ ہے، جس میں 2024 میں 18 ارب ڈالر کی درآمدات اور 14.5 ارب ڈالر کی برآمدات شامل ہیں۔
جمعہ کو عمان میں ثالثی کے تحت ہونے والی بات چیت امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی، جو اس سے قبل امریکہ کی جانب سے جون میں ایران کے جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے اور اسرائیل کی جنگ میں شمولیت کے بعد ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا ہم نے ایران کے بارے میں بھی بہت اچھی بات چیت کی اور اگلے ہفتے کے اوائل میں دوبارہ ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔


Comments