ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی امید ظاہر ہونے کے بعد ایرانی صدر کا امریکہ سے مذاکرات کا حکم
- ایران نے مذاکرات کے طریقہ کار اور فریم ورک پر کام شروع کرنے کا اعلان کردیا
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے ایک نئے معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔
گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری بیڑا روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک طرف دباؤ بڑھانے کے باوجود ٹرمپ نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ تہران نے بھی کسی بھی جارحیت پر بھرپور جواب کے عزم کے ساتھ سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری فائل پر بات چیت ہوگی، تاہم تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے فریم ورک پر کام جاری ہے جو آئندہ چند روز میں مکمل ہو جائے گا اور علاقائی ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے وارننگ دی تھی کہ جوہری معاہدے کے لیے ایران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے لیکن تہران نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا الٹی میٹم قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا موقف ہمیں قبول ہے لیکن اس کے بدلے میں ہم پر عائد پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اسے ایک ممکنہ اچھا معاہدہ قرار دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملہ ایک علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔
اندرونی طور پر ایرانی حکام نے حالیہ احتجاج کو غیر ملکی سازش اور بغاوت کی کوشش قرار دیا ہے۔ تہران نے احتجاج کے دوران 3,117 اموات تسلیم کیں اور 2,986 افراد کے نام جاری کیے ہیں، جن میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکار بتائے گئے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 6,800 سے تجاوز کر چکی ہے اور تقریباً 40,000 افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے ردِعمل میں ایران نے تہران میں تعینات تمام یورپی سفیروں کو طلب کر لیا ہے اور یورپی افواج کو بھی اسی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔


Comments