روس کا پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کے مبینہ ثبوت امریکہ کے حوالے کرنے کا دعویٰ
- یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں اپنے مؤقف پرنظرثانی کرینگے ، روس کا بیان
ماسکو میں اعلیٰ روسی فوجی عہدیدار ایڈمرل ایگور کوسٹیوکوف نے امریکی ملٹری اتاشی کو مبینہ یوکرینی ڈرون کا حصہ پیش کیا ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ اس ڈرون کے میموری کنٹرولر سے حاصل کردہ ڈیٹا ثابت کرتا ہے کہ یوکرین نے رواں ہفتے نووگوروڈ کے علاقے میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو 91 ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
روس نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کرے گا۔ دوسری جانب یوکرین اور مغربی ممالک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ روس کی ڈس انفارمیشن مہم ہے ,تاکہ صدر زیلنسکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ملاقات کے بعد کیف اور واشنگٹن کے تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ابتدا میں اس واقعے پر غصے کا اظہار کیا تھا، اب محتاط نظر آتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق امریکی حکام کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یوکرین نے پیوٹن کو نشانہ بنایا ہو۔


Comments