اگلا بجٹ ایف بی آر نہیں فنانس ڈویژن بنائے گا
پاکستان کا ٹیکس پالیسی آفس اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت نہیں رہے گا، کیونکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ یہ اب وزارت خزانہ کے دائرہ کار میں کام کرے گا۔ اس کے نتیجے میں ایف بی آر سالانہ بجٹ تیار کرنے میں اہم کردار ادا نہیں کرے گا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس پالیسی آفس اب وزارت خزانہ کے دائرہ کار میں منتقل کردیا گیا ہے، ایف بی آر کا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ آئندہ سال کا بجٹ جو 2026 میں پیش کیا جائے گا (مالی سال 27 کے لیے) وزارت خزانہ اور ٹیکس پالیسی آفس کی قیادت میں تیار کیا جائے گا، نہ کہ ایف بی آر کے ذریعے۔ یہ اعلان انہوں نے ایس ای سی پی اور پاکستان بینک ایسوسی ایشن کی مشترکہ ورکشاپ میں کیا۔
صنعتی پالیسی
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع صنعتی پالیسی پر مسلسل کام کر رہی ہے، جو جلد اعلان کی جائے گی جو ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختردن دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ یہ پالیسی کابینہ سے منظور کروا کر عوام کے سامنے پیش کی جائے، یہ اس بات کا اہم عنصر ہے کہ ہم کس طرح استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف بڑھیں گے، کیونکہ یہ بنیادی ستون انتہائی اہم ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ میں حکومت نے محصولات، الیکٹرک وہیکلز، کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل سیکٹر سے متعلق اہم پالیسیز کا اعلان کیا ہے۔
ٹیرف ریفارم
صنعتوں، خاص طور پر برآمدی شعبے کے لیے محصولات میں اصلاحات پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگلے چار سے پانچ سالوں میں کسٹمز ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو ایک معین سطح تک کم کرنا ناگزیر ہے تاکہ برآمدات کی مسابقت بہتر ہو اور طویل عرصے سے فراہم کیے گئے تحفظات ختم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات برآمدات کی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں اور ساتھ ہی ان صنعتوں سے وہ تحفظ ختم کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں جو طویل عرصے سے حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا۔
اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کئی اداروں نے حکومت کی مدد کی، جن میں عالمی بینک (ورلڈ بینک) بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں آئی ایم ایف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹیرف اصلاحات مکمل طور پر حکومت اور اس انتظامیہ کا اپنا منصوبہ ہے تاکہ ہماری صنعت کو مستقبل میں مزید مسابقتی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فنانس اور ایف بی آر کا ماننا ہے کہ ٹیرف میں کمی سے محصول کی وصولی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر ہم محصولات کم کرتے رہیں تو ہماری آمدنی ختم ہو جائے گی۔ ہمیں قلیل مدتی سوچ سے باہر نکل کر اگلے چار سے پانچ سال کے لیے ملک کے مفاد میں درست اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ترقی اور مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔
مسنگ پلیئرز
وزیر خزانہ نے نوٹ کیا کہ ورکشاپ میں کارپوریٹ سیکٹر کی شرکت کم تھی، حالانکہ وہ کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہی ادارے اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے فنڈز (قرض/شیئرز) فراہم کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ ورکشاپ کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ایک کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل تشکیل دیں تاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج جیسے ڈومیسٹک کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے ترقی کے لیے فنڈز متحرک کیے جاسکیں۔
کونسل کے اہم اسٹیک ہولڈرز میں ایس ای سی پی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینک ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کارپوریشنز، انشورنس اور دیگر ادارے، اور صوبائی نمائندگی شامل ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ تر نفاذی اختیارات اب صوبوں کے پاس ہیں۔
یہ اقدام ملک میں صنعتی ترقی، برآمدی مسابقت اور کیپیٹل مارکیٹس کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.