BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.38%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.41 Increased By ▲ 0.58 (1.1%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 215.16 Increased By ▲ 0.78 (0.36%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.52 Decreased By ▼ -0.37 (-1.33%)
MLCF 87.13 Increased By ▲ 0.62 (0.72%)
OGDC 322.79 Increased By ▲ 2.83 (0.88%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.36 Increased By ▲ 0.69 (4.14%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.00 Increased By ▲ 0.82 (0.36%)
PRL 34.83 Increased By ▲ 0.15 (0.43%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.02 Increased By ▲ 0.42 (1.58%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں ہونے والی ابتدائی کمی اس وقت دوبارہ استحکام اور اضافے میں بدل گئی جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان دیا کہ اگر جمعہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات اچھی نہ رہی، تو روس پر پابندیاں یا ثانوی محصولات (سیکنڈری ٹیرف) میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

بدھ کو عالمی وقت 1243 تک برینٹ خام تیل کے سودے 6 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 66.18 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 2 سینٹ بڑھ کر 63.19 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔

اسکاٹ بیسنٹ کے بیان سے قبل دونوں بینچ مارک قیمتیں دباؤ کا شکار تھیں۔ عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بدھ کو جاری رپورٹ میں تیل کی رسد میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے مگر عالمی طلب میں کمی کے باعث سالانہ طلب کا تخمینہ گھٹا دیا، جس کی وجہ بڑے صنعتی ممالک میں ایندھن کی سست روی کا شکار طلب بتائی گئی ہے۔

تاہم قیمتوں میں یہ ردوبدل محدود رہا کیونکہ سرمایہ کاروں کی نگاہیں صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی الاسکا میں طے شدہ ملاقات پر مرکوز تھیں، جس کا مقصد یوکرین میں جاری روسی جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنا ہے، ایک ایسا تنازع جس نے فروری 2022 سے عالمی تیل منڈی کو مسلسل متاثر کر رکھا ہے۔

ادھر منگل کو جاری ہونے والی ماہانہ رپورٹ میں اوپیک پلس نے آئندہ سال کے لیے عالمی تیل کی طلب کا تخمینہ بڑھا دیا ہے، جبکہ امریکا اور دیگر غیر اوپیک پلس ممالک کی جانب سے سپلائی میں اضافے کی پیش گوئی کو کم کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں سختی کا اشارہ ملتا ہے۔

آزاد توانائی تجزیہ کار، گورَو شرما کا کہنا ہے کہ اگر ہم عالمی توانائی ایجنسی اور اوپیک کی جانب سے 2025 میں تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئیوں کو مجموعی طور پر دیکھیں، خواہ اندازے مندی کے ہوں یا تیزی کے، تو ایک معتدل تخمینہ جیسے کہ روزانہ 10 لاکھ بیرل سے کچھ زیادہ، غیر اوپیک ممالک کی موجودہ سپلائی میں اضافے سے ہی باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے، قلیل مدتی عرصے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی کوئی ٹھوس بنیاد نظر نہیں آتی۔

اسی دوران، امریکا ، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل صارف ملک ہے، میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 15 لاکھ بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جیسا کہ منگل کو امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کے حوالے سے مارکیٹ ذرائع نے بتایا ہے۔

ادھر رائٹرز کے سروے میں شامل تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آج جاری ہونے والی یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی رپورٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران تیل کے ذخائر میں تقریباً 3 لاکھ بیرل کی کمی ظاہر کی جائے گی۔

Comments

Comments are closed.