✕
کاروبار اور معیشت

حکومت آئندہ تین سے پانچ سال کے لیے ٹیکس اصلاحات کا روڈ میپ تیار کر رہی ہے، بلال کیانی

  • حکومت اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر چھوٹے کاروباروں، خصوصاً نئے برآمد کنندگان کے لیے قرضوں کا حصول آسان بنا رہی ہے، وزیر مملکت
شائع اپ ڈیٹ

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ تین سے پانچ سال کے لیے ٹیکس اصلاحات کا روڈ میپ تیار کر رہی ہے، جس کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس، کم از کم ٹیکس اور سپر ٹیکس میں بتدریج کمی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں تک رسائی بہتر بنانے اور برآمدات سے وابستہ کاروباروں کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کی حوصلہ افزائی پر توجہ دی جائے گی۔

بلال اظہر کیانی نے جمعرات کو پائیدار ترقی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کی 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے تحت منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو بار بار معاشی عروج و زوال کے چکر سے نکالنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ تین سے چار سال تک مذکورہ ٹیکسوں میں کمی کو ترجیح دے گی، تاہم اس کی رفتار مالی گنجائش سے مشروط ہوگی۔ حکومت نئے قرضہ پروگرام متعارف کرانے کے بجائے موجودہ سہولتوں تک چھوٹے کاروباروں کی رسائی بہتر بنانا چاہتی ہے۔

بلال اظہر کیانی کے مطابق حکومت اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر چھوٹے کاروباروں، خصوصاً نئے برآمد کنندگان کے لیے قرضوں کا حصول آسان بنا رہی ہے۔ برآمدی فنانس اسکیم کے تحت ورکنگ کیپیٹل 6 فیصد شرح سود پر فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ طویل مدتی برآمدی فنانسنگ سہولت کے تحت مشینری اور پلانٹس کے لیے پہلے دو سال 2 فیصد اور اگلے آٹھ سال 5 فیصد شرح سود پر قرض دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمد کنندگان کی تعداد اور برآمدی شعبوں میں تنوع بڑھانا ضروری ہے۔ برآمدات ہی ملک کو بار بار آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانے والے معاشی چکر سے نکالنے کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔

وزیر مملکت نے اعتراف کیا کہ حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے قواعد و ضوابط کو یکجا کرنے کے لیے ایک آن لائن پورٹل تیار کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کے دیگر مقررین نے بھی پالیسیوں میں تسلسل، سستی توانائی، ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایشیائی ترقیاتی بینک نور احمد نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور توانائی کی بلند قیمتیں کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026