امریکی کانگریس پر قبضے کی جنگ، ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کی نشست جیت لی
- شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق گورنر رائے کوپر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو واضح شکست دیدی
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے شمالی کیرولائنا میں ریپبلکنز کی سینیٹ نشست جیت لی جبکہ فلوریڈا کے متعدد ریپبلکن اکثریتی ایوانِ نمائندگان کے حلقوں میں بھی ڈیموکریٹس نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے، جس سے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کی ان کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
تاہم ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی گنتی باقی ہونے کے باعث یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ڈیموکریٹس سینیٹ کی 4 اور ایوانِ نمائندگان کی 3 نشستیں حاصل کرکے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق گورنر رائے کوپر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو واضح شکست دے کر ریپبلکنز کی سینیٹ نشست جیت لی۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے ریپبلکن امیدوار مائیک کولنز کو شکست دی جبکہ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نے ریپبلکن امیدوار جان سنونو کو ہرا کر سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹس کے پاس برقرار رکھی۔
فلوریڈا میں ریپبلکن سینیٹر ایشلے موڈی نے ڈیموکریٹ امیدوار اینجی نکسن کو شکست دی، تاہم انہیں صرف 3 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی، حالانکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے یہ ریاست 13 فیصد پوائنٹس کے فرق سے جیتی تھی۔
ڈیموکریٹس نے فلوریڈا میں ایوانِ نمائندگان کی 3 نشستیں بھی برقرار رکھیں جن کے حلقوں کی نئی حدبندی ریپبلکن قانون سازوں نے رواں سال کی تھی۔ ان تمام حلقوں میں 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کو کم از کم 9 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
ایگزٹ پولز کے مطابق ملک بھر میں نصف ووٹرز نے انتخابات کو صدر ٹرمپ کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کا موقع قرار دیا جبکہ 75 فیصد ووٹرز نے ملک کی سمت پر غصے یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تقریباً 70 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر مزید نگرانی اور توازن برقرار رکھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی نے ریپبلکنز کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ تاریخی طور پر بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صرف دو مرتبہ صدر کی جماعت کانگریس میں اپنی نشستیں بڑھانے میں کامیاب ہوئی۔
انتخابی نگرانی اور الاسکا کا تنازع
امریکی محکمہ انصاف نے انتخابات کی نگرانی کے لیے تمام 50 ریاستوں میں ایک ہزار مبصرین تعینات کیے، جسے تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی نگرانی قرار دیا گیا۔ ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی ممکنہ کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب الاسکا میں سینیٹ کی نشست پر بھی تنازع سامنے آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا کی انتخابی مہم نے مبینہ طور پر ایک ایسے آزاد امیدوار کو میدان میں اتارنے میں مدد کی جس کا نام ان کے ریپبلکن حریف ڈین سلیوان سے ملتا جلتا ہے۔ پیلٹولا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے معاملے کی فوجداری تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ انتخابی نتائج کی تصدیق روکنے کے لیے دائر مقدمہ عدالت نے مسترد کردیا ہے۔