افغان طالبان کے الزامات مسترد، پاکستان کا حقِ دفاع استعمال کرنے کا عزم
- 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پاکستان میں 3,500 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے، دفتر خارجہ
پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گرد گروہ اور ان کے رسدی مراکز تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پاکستان میں 3,500 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے۔
پیر کو جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے فتنۃ الخوارج قرار دیا گیا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جسے فتنۃ الہندوستان کہا گیا ہے، اور ان سے وابستہ گروہوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے۔
بیان کے مطابق یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، نے بھی افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر کوئی ذمہ دار ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت اور آخری چارہ کار کے طور پر کی گئیں۔ یہ اقدامات خطرے کے تناسب سے تھے اور ان میں اہداف کے تعین اور احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد اور افغان سرزمین کو دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا پابند بنائے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دہشت گردی کا معاملہ مسلسل کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ اسلام آباد متعدد بار کابل سے ٹی ٹی پی سمیت پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر چکا ہے، تاہم سرحد پار حملوں اور الزامات کے تبادلے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔