✕
دنیا

امریکا کا سعودی عرب سے سفارتی عملے اور اہل خانہ کو نکلنے کا حکم

  • یہ حکم صرف سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر لاگو ہوتا ہے، امریکا
شائع اپ ڈیٹ

امریکا نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل اور مہلک حملوں کے پیش نظر امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکم صرف سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اس سے قبل ایک سفارتی ذریعے نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں امریکی سفارتی عملے کے اہل خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق بدھ کو شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، تاہم گرنے والے ملبے سے ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری ہلاک جبکہ پاکستانی اور بھارتی شہری زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقے سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی، تاہم ان کی نوعیت اور وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں کی ناکہ بندی کردی۔