پیٹرولیم قیمتوں کا نظام، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کا ذریعہ
- اس طریقۂ کار کے مہنگائی پر قابلِ پیمائش اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 27.43 فیصد اضافہ ہوا۔
سب سے اہم بات پہلے: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقۂ کار اب توانائی کی پالیسی کا ایک آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ مالی وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور ماحولیات کیلئے لیوی کو منظم انداز میں مالیاتی خسارے پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اس عمل کے ذریعے صوبوں کے ساتھ محصولات کی تقسیم سے متعلق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی ذمہ داری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اس طریقۂ کار کے مہنگائی پر قابلِ پیمائش اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 27.43 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کا بوجھ متوسط طبقے اور غریب آبادی پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی اپنی سودے بازی کی قوت کھو چکی ہے۔
I. طریقۂ کار کی حقیقت — سات روزہ متحرک اوسط کا تکنیکی پردہ
جولائی 2026 میں منظور کیے گئے نظرثانی شدہ طریقۂ کار کے تحت موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فریٹ آن بورڈ (ایف او بی) قیمت کا تعین پلیٹس عرب گلف کی قیمتوں کے جائزوں کی سات کاروباری دنوں پر مشتمل متحرک اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر مرتبہ قیمتوں میں تبدیلی کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری حاصل کیے بغیر روزانہ کی بنیاد پر ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرتی ہے۔
تاہم اس تکنیکی وضاحت کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت چھپی ہوئی ہے، پاکستان میں ڈیزل کی مقامی پیداوار کا 87 فیصد مقامی ریفائنریوں سے حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود قیمتوں کے تعین میں درآمدی برابری (امپورٹ پیریٹی) کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی ریفائنریوں کو ان کی مصنوعات کی قیمت اس طرح ادا کی جاتی ہے، گویا انہیں درآمد کیا گیا ہو، خواہ ان کی اصل پیداواری لاگت کچھ بھی ہو۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ ڈیزل کا تقریباً 70 فیصد مقامی طور پر صاف کیا جاتا ہے۔ پارکو اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق کام کر رہی ہے، جبکہ دیگر ریفائنریوں کی استعدادِ کار 84 سے 85 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو درآمدی برابری کے مطابق قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں، چاہے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا حقیقی پیداواری لاگت پر مکمل اثر مرتب نہ بھی ہو۔
II. ٹیکسوں اور لیویز کی اصل مالیت
قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقۂ کار کے تحت وفاقی حکومت محصولات حاصل کرنے کے لیے تین بنیادی ذرائع استعمال کرتی ہے: پیٹرولیم لیوی، ماحولیاتی معاونتی لیوی اور کسٹم ڈیوٹی۔
اگست 2026 تک پیٹرول کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی 80 روپے، ماحولیاتی معاونتی لیوی 5 روپے اور کسٹم ڈیوٹی 17.28 روپے تھی۔ اس دوران پیٹرول کو عملاً سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے فارمولے کے مطابق محصولات میں اپنے جائز آئینی حصے سے محروم رہتے ہیں۔
ٹیکسوں کا یہ بوجھ اتفاقی نہیں ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں 1.2 کھرب روپے سے تجاوز کر گئیں، جبکہ مالی سال کے اختتام پر وصولیوں کا حتمی حجم 1.57 کھرب روپے رہا۔
مالی سال 2026-27 کے لیے تیل اور گیس سے حاصل ہونے والے محصولات کا ہدف 1.998 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں صرف پیٹرولیم لیوی کا حصہ 1.677 کھرب روپے ہے۔ یہ مجموعی ہدف کا تقریباً 84 فیصد بنتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی کی جگہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) نافذ کرنے کی آئی ایم ایف کی تجاویز کی مخالفت کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی پوری آمدن وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے، جبکہ جی ایس ٹی کی آمدن صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر پیٹرولیم لیوی کا کوئی متبادل تلاش کر لیا جائے تو آئی ایم ایف اس میں کمی کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
III. مالیاتی وفاقیت کو نظرانداز کرنے کا طریقۂ کار
پیٹرولیم لیوی اور عام ٹیکسوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو ناقابلِ تقسیم آمدن سمجھا جاتا ہے، یعنی اسے این ایف سی کے تحت صوبوں میں تقسیم کیے جانے والے مشترکہ محصولات کے پول میں شامل نہیں کیا جاتا۔
انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سمیت زیادہ تر ٹیکسوں کی آمدن ایک مشترکہ پول میں جمع ہوتی ہے، جسے صوبوں کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے اور جس میں صوبوں کو بڑا حصہ ملتا ہے۔ تاہم، پیٹرولیم لیوی کو قانونی طور پر ٹیکس نہیں سمجھا جاتا، اس لیے اسے مشترکہ پول میں شامل نہیں کیا جاتا۔
توقع ہے کہ اس انتظام کے ذریعے رواں سال تقریباً 1.7 کھرب روپے حاصل ہوں گے۔ یہ رقم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی متوقع مجموعی وصولیوں کا تقریباً دسواں حصہ ہے، جو بنیادی طور پر صرف دو مصنوعات سے حاصل کیا جائے گا۔
ایسی حکومت کے لیے، جسے دیگر ذرائع سے مطلوبہ ٹیکس وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، پیٹرولیم لیوی آمدن کے ان چند ذرائع میں سے ایک ہے جن پر وہ بھروسا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی حکومتیں اس پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
IV. مہنگائی پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں مہنگائی تک براہِ راست اور شدید انداز میں منتقل ہوتے ہیں۔ ستمبر 2026 میں مجموعی مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد تھی، لیکن ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر 27.43 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں موٹر ایندھن کی قیمتوں میں 37.73 فیصد اضافہ ہوا۔
حالیہ کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بالترتیب 50 اور 45 فیصد زیادہ ہیں۔
اس کے اثرات منتقل ہونے کا سلسلہ واضح ہے، ایندھن کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے رسد اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، اور نتیجتاً خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی خوردہ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
یکم اکتوبر 2026 تک بنیادی غذائی اشیا، جن میں گندم کا آٹا، خوردنی تیل اور دالیں شامل ہیں، کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 14.2 فیصد زیادہ رہیں۔ گندم کے آٹے کی قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح سے 19 فیصد بلند رہیں۔
V. متوسط طبقے پر دوہرا دباؤ اور غریبوں کے لیے مشکلات
پاکستان کا متوسط طبقہ اس وقت دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث براہِ راست ایندھن پر ہونے والے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف خوراک، بجلی اور ٹرانسپورٹ کی خدمات جیسے بالواسطہ اخراجات بھی بیک وقت بڑھ رہے ہیں۔
اس کے برعکس حقیقی آمدن میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ نتیجتاً متوسط طبقے کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے، جبکہ غریب طبقے کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
غریب طبقے کے لیے صورتِ حال مزید سنگین ہے۔ اکتوبر 2026 تک چھ افراد پر مشتمل ایک گھرانے کے لیے بنیادی غذائی اشیا کی ٹوکری کی ماہانہ لاگت 17,300 روپے رہی۔
عارضی اور آن لائن ذرائع سے روزگار حاصل کرنے والے افراد اس بحران کی واضح مثال ہیں۔ اسلام آباد میں بائیکیا کے 41 سالہ رائیڈر صداقت عزیز نے عرب نیوز کو بتایا کہ مثال کے طور پر، اگر ہم 200 روپے کی ایک سواری لیتے ہیں تو کمپنی اس میں سے اپنا 20 فیصد حصہ لے لیتی ہے۔
اس طرح ہمارے پاس 160 روپے بچتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان 160 روپے میں سے تقریباً 100 روپے پیٹرول پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد موٹر سائیکل کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات بھی ہوتے ہیں، جبکہ ہمیں اپنے ذاتی اخراجات بھی پورے کرنے پڑتے ہیں۔
حکومت کے ایندھن پر سبسڈی کے پروگرام سے کم آمدن والے 90 لاکھ افراد مستفید ہوتے ہیں، تاہم موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو قیمتوں میں رعایت کی صورت میں ہفتہ وار صرف 500 روپے ملتے ہیں۔
VI. ساختی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات ممکن ہیں؟
حکومت جماعتِ اسلامی کی اس تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو بتدریج کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک لایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی سالانہ آمدن میں متوقع 1.45 سے 1.50 کھرب روپے کے خسارے کو نئے ٹیکسوں، ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، اخراجات میں بچت اور ٹیکس وصولیوں کے مؤثر نفاذ کے ذریعے پورا کیا جائے۔
اس تجویز میں لگژری درآمدات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے، بڑی ترین کمپنیوں اور انتہائی زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر اضافی سرچارج عائد کرنے، ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تاہم، یہ معاملہ اب بھی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی میں نرمی دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی، کیونکہ وہ اسے پروگرام کے تحت طے شدہ وعدوں سے منسلک آمدن کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔
حکام کے مطابق، حکومت قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پہلے ہی تقریباً 129 ارب روپے کا ریلیف فراہم کر چکی ہے، جس کے اخراجات ترقیاتی بجٹ میں کمی کرکے پورے کیے گئے ہیں۔
اصل مسئلہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کے تکنیکی پیرامیٹرز نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما مالیاتی محرکات ہیں۔ جب تک وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کو مالیاتی خسارے پورے کرنے اور این ایف سی کے تحت محصولات کی تقسیم سے بچنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی، اس وقت تک قیمتوں کے تعین کا کوئی بھی طریقۂ کار — خواہ وہ سات روزہ اوسط ہو، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل ہو یا ڈی ریگولیشن — اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکے گا کہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ صارفین ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔