پاکستان کا عالمی بینک کی ضمانتوں کے ذریعے ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر غور
- وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور مالیاتی مشاورتی ادارے الواریز اینڈ مارسل کے درمیان ملاقات
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان بیرونی مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع لانے کی حکومتی کوششوں کے تحت عالمی بینک گروپ کی ضمانتوں کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کے انتظام پر غور کر رہا ہے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
یہ پیش رفت تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور مالیاتی مشاورتی ادارے الواریز اینڈ مارسل کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات میں عالمی بینک گروپ کی ضمانتوں کے ذریعے طویل مدتی مالی معاونت کے حصول پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے عالمی بینک کی پالیسی پر مبنی ضمانت کو کثیرالجہتی سرمایہ کاری ضمانتی ایجنسی (میگا) کی کوریج کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا، تاکہ مسابقتی شرحوں پر مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔ اس انتظام کے تحت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی معاونت کا ہدف تجویز کیا گیا ہے، تاہم اس کا انحصار ضمانتوں کی دستیاب حد اور لین دین کی ساخت پر ہوگا۔
مذاکرات میں عالمی بینک کے وسائل سے فائدہ اٹھانے، بجٹ معاونت کو ضمانتوں کے ساتھ منسلک کرنے اور سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے کے امور زیرِ غور آئے۔ محمد اورنگزیب نے نئے فریم ورک پر مذاکرات کے باعث ممکنہ تاخیر سے بچنے کے لیے موجودہ ترقیاتی پالیسی آپریشن (ڈی پی او) کو استعمال کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ اقتصادی امور اور عالمی بینک گروپ کے ذریعے اس تجویز پر مزید غور کرنے کی حمایت کی۔ ملاقات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے جاری مشاورتی کام پر بھی بات ہوئی۔
ایک اور ملاقات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے ہمراہ، امریکی محکمہ خزانہ میں بین الاقوامی امور کی انڈر سیکریٹری ایرن براؤن سے پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت پر تبادلۂ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے ستمبر میں پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا اور سکوک، پانڈا بانڈز سمیت دیگر مالیاتی ذرائع کے ذریعے فنڈز کے حصول میں تنوع لانے کے منصوبوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس اصلاحات، مسلسل تین سال بنیادی بجٹ سرپلس اور تقریباً 21.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
مذاکرات میں خطے کے تنازع کے توانائی، مہنگائی اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کے علاوہ رسد برقرار رکھنے اور موسم سرما کی طلب کے لیے تیاریوں پر بھی بات ہوئی۔ محمد اورنگزیب نے برآمدات پر مبنی ترقی، آئی ٹی برآمدات میں اضافے، پاکستانی اشیا کی مسابقت بہتر بنانے اور قرضوں کو پائیدار سطح پر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو بی بی درجے تک پہنچانے کی پیش رفت میں مدد مل سکے۔
انہوں نے نجکاری، ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے، بوئنگ کے ساتھ رابطوں اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (یو ایس ایکسِم بینک) سے ممکنہ مالی معاونت پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور امریکا کی مسلسل حمایت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔
مزید برآں وزیر خزانہ نے مالیاتی مشاورتی ادارے لازارڈ کے وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری، مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے امکانات پر بات ہوئی۔
محمد اورنگزیب نے فنڈز کے ذرائع وسیع کرنے اور مالی معاونت کی شرائط بہتر بنانے کے لیے مشترکہ مالیاتی انتظامات، پائیداری سے منسلک قرضوں، ضمانت شدہ سکوک اور قرضوں کے تبادلے کی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل ہو چکی ہے اور پانڈا بانڈز سمیت مزید بانڈز جاری کرنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
انہوں نے اخراجات پر قابو رکھنے، درمیانی مدت کی مالیاتی حکمت عملی سے ہم آہنگی اور سازگار مارکیٹ حالات سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سے متعلق مشاورتی معاونت، پالیسیوں میں تسلسل اور معاشی استحکام مضبوط بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، تاکہ پاکستان کو بی بی ریٹنگ کے درجے تک پہنچانے میں مدد مل سکے۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ رابطہ کاری قرضوں کے انتظام کے دفتر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ لازارڈ نے اپنی سفارشات پر مشتمل ایک مختصر نوٹ پیش کرنے کی تجویز دی۔