✕
دنیا

ایران کی امریکی انتخابات سے قبل بحری جہازوں پر حملے بڑھانے کی نئی حکمت عملی

  • ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی تھیں
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رکھنے اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بات دو سینئر ایرانی عہدیداروں نے بتائی۔

ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی تھیں۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتی تھی۔ ایرانی دھمکیوں اور حملوں کے باعث یہاں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

ایرانی عہدیداروں کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت حملوں کی نوعیت اور رفتار تبدیل کی گئی ہے، جبکہ کارروائیوں کا دائرہ آبنائے ہرمز سے بڑھا کر خلیج عمان اور دیگر سمندری علاقوں تک پھیلایا جائے گا۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساحلی پانیوں میں بھی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایک امریکی فوجی عہدیدار کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب چھوٹی کشتیوں میں غیر مسلح افراد کو تعینات کرکے ممکنہ اہداف، بشمول امریکی بحری جہازوں، کی نشاندہی کروا رہی ہے۔

سمندری سلامتی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں سے متعلق کم از کم پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔

ایرانی عہدیداروں نے خبردار کیا کہ تہران پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی گزرگاہ مکمل بند کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ادھر امریکی بحریہ کے مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کو بدستور انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔