✕
کاروبار اور معیشت

محمد اورنگزیب نے قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی سربراہی سنبھال لی

  • وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم باہمی تجربات سے سیکھنے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دے گا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر پاکستان کی جانب سے قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی سربراہی سنبھال لی۔

جاری بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے اس موقع پر پلیٹ فارم کو فعال بنانے میں مصر کی قیادت اور رکن ممالک سمیت سیکریٹریٹ کی خدمات کو سراہا۔

قرض لینے والے ممالک کا پلیٹ فارم ایک بین الاقوامی اقدام ہے جس کی قیادت رکن ممالک کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو خودمختار قرضوں سے متعلق مسائل پر رابطے، معلومات اور تجربات کے تبادلے اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے ایک مخصوص فورم فراہم کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ فورم اجتماعی سودے بازی یا مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے قائم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے 2026-27 کے ورک پلان کے تحت قرضوں کے انتظام کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، اصلاحات کے تجربات کا تبادلہ کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے جدید ذرائع تلاش کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

محمد اورنگزیب نے پلیٹ فارم کے عملی نفاذ اور قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کے لیے ایک ذریعہ رہنا چاہیے۔

اپنے اختتامی کلمات میں وزیر خزانہ نے پلیٹ فارم کی ادارہ جاتی بنیادوں، انتظامی ڈھانچے اور مشترکہ ورک پروگرام کی تشکیل میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ممکنہ نئے رکن ممالک کی جانب سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ نے صحافیوں سے گفتگو بھی کی۔محمد اورنگزیب گزشتہ ہفتے بینکاک روانہ ہوئے تھے، جہاں وہ 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والے عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

دورے کے دوران وزیر خزانہ اہم عالمی بینک اور آئی ایم ایف اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ اور پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی کریں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب منتقلی کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران حکومت ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور عالمی سرمایہ منڈیوں سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔