کریملن: پیوٹن نے ٹرمپ کو ایران کے امن معاہدے سے متعلق موقف سے آگاہ کردیا
- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے
کریملن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ امن معاہدے سے متعلق ایران کے موقف سے آگاہ کردیا ہے۔
کریملن کے مطابق ایران کا موقف جمعے کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پہنچایا گیا۔ تاہم، اس نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ نے اس پر کیا ردعمل دیا اور نہ ہی ایران کے موقف کی مزید تفصیلات بیان کیں۔
فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی سات ماہ سے زائد عرصے پر محیط جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششیں موسمِ گرما سے تعطل کا شکار ہیں۔
پیوٹن نے رواں ہفتے کے اوائل میں ترکمانستان میں ایک سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر روسی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی میں مدد دینے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ریا کے مطابق، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کو کہا، ’’ایرانی صدر سے مشاورت کے بعد پیوٹن نے تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایرانی فریق کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا۔‘‘
امریکا اور ایران نے جون میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس میں تنازع ختم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا۔ تاہم، آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات بھی کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔